اشیائے خوردونوش و دیگرسامان کی نرق کا تعین مافیاز کرتے ہیں ،عمر حیات

باغ ( کاشگل نیوز)

 

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عمر حیات نے کہا ہے کہ تاجر گراں فروشی میں ملوث ہیں اور ایکشن کمیٹی گراں فروشوں کو تحفظ دیتی ہے ، بے بنیاد پروپگنڈا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل حقائق یہ ہیں کہ مظفرآباد میں بیٹھے حکمرانوں نے ادارے عوام کے تحفظ اور سہولیات دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے تحفظ اور پیدا گیری کے لیے بنا رکھے ہیں ۔ پرائز کنٹرول کمیٹی زائد المعاد اشیاء کے چیک کے لیے ادارہ گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کے لیے ادارہ ان تمام اداروں کو صارفین کی بہتری کے لیے بھلائی کے لیے نہیں بلکہ ریوینیو جمع کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر ان اداروں کو مظفرآباد سے ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ اپ نے ضلع اور تحصیل سے چالان اور جرمانے کی مد میں لاکھوں روپے پر مشتمل ریوینیو جمع کروایا جائے جو افسران زیادہ ریونیو جمع کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔وہ حکمرانوں کی گڈ بک میں اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں پھر حکمران ان پیسوں سے عیاشیاں کرتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں نے کبھی بھی سرمایہ دار کو چالان یا جرمانہ نہیں کیا ، چھوٹا تاجر ، ریڑی والا ہی اکثر ان کی پیداگری کا شکار ہوتا ہے، یہاں ہر تاجر خود صارف بھی ہے۔ یہ ادارے ایک پلاننگ کے ذریعے صارف اور تاجر میں تضاد پیدا کر کے صارف کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہوئے چھوٹے کاروباری کو اپنا شکار بناتے ہیں، خطہ کے اندر کسی قسم کی انڈسٹری موجود نہیں۔

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی رہنما نے مزید کہا کہ تاجر پڑوسی آزاد منڈیوں سے اشیائے خردنوش خریدتے ہیں جن پڑوسی منڈیوں سے مال خریدا جاتا ہے ، وہاں پر معیار، مقدار اور ریٹ کا تعین ریاست نہیں بلکہ وہاں بیٹھے مافیاز کرتے ہیں ۔ ان تمام سچائیوں کے باوجود ہر طرح کی گراں فروشی کی مخالفت کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکمرانوں کی اولادوں کے لیے عیدی جمع کرنے کی بھی مذمت کرتے ہیں۔