سیاسی کارکن یا عام شہری پہلے بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دیتا تھا، تو اسے مشکل یہ ہوتی تھی کہ اپنے آبائی ملک میں جو اس کے خلاف سیاسی کیسز بنے ہیں ان کی تصدیق نہیں ہو پاتی تھی۔
انہیں میڈیکل گراؤنڈ، لوگوں کے بیان حلفی لے کر یا پھر جس ملک میں وہ پناہ لینا چاہتے تھے اس ملک کے شہریوں اور سیاسی کارکنوں سے ان پرسن گواہی دلوانی پڑتی تھی۔ اس طرح جھوٹ سچ جوڑ کر یہ لوگ بیرون ملک قانونی طور پر رہنے اور محنت بیچنے کے اہل ہوجاتے تھے۔تاہم اس معاملے میں ان کی آبائی ریاست کی جانب سے تصدیق نہ ملنے کی وجہ سے انہیں کئی کئی سال لگ جاتے تھے۔
اب ریاست نے یہ مفت گواہی و تصدیقی سروس شروع کر دی ہے۔ جن سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات تھے وہ بھی کیریکٹر سرٹیفکیٹ پر لکھ کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے بارے میں یہ شک ہو کہ وہ عوامی حقوق تحریک کا حصہ تھے، ان کو بھی تصدیق دی جاتی ہے کہ یہ تحریک کے دوران درج مقدمات میں ملوث ہیں۔
قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کو ایئرپورٹس پر ذلیل کر کے آف لوڈ کرنے والی ایک انتقامی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ اس عمل میں پی ٹی آئی سے تعلق کے شک پر اور محکوم قوموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو خصوصی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ روزانہ درجنوں افراد کو ایف آئی اے امیگریشن اہلکار بغیر کوئی وجہ بتائے آف لوڈ کر لیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بھاری رشوت دے کر نکل جاتے ہیں اور کچھ کا ٹکٹ ضائع ہوجاتا ہے۔
یہ سلسلہ شروع تو اس لیے ہوا کہ نوجوانوں کے روزگار پر حملہ کیا جائے اور انہیں تحریک میں متحرک ہو کر ریاست کو مفلوج کرنے کی سزا دی جائے۔ اس وجہ سے سٹوڈنٹ اور ورک ویزہ پر بیرون ملک جانے کا راستہ بند ہوتا ہے۔ قانونی امیگریشن کے لیے بھی پولیس کیریکٹر سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے، یعنی وہ راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ اندرون ملک ملازمت کے راستے بھی اس طرح سے بند ہوجاتے ہیں۔ ڈنکی کا راستہ البتہ برقرار رہتا ہے۔
یوں ایک طرف قانونی طور پر روزگار کے راستے بند کر کے انتقام لیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی طور پر باہر پہنچنے والوں کی سیاسی پناہ کے لیے سرکاری تصدیق بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ یوں یہ عمل ’بلیسنگ ان ڈسگائیس‘ بن جاتا ہے۔
کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے نام پر یہ انتقامی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں۔ نوجوانوں کو ریاست اگر روزگار فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم قانونی طور پر روزگار کے راستے اختیار کرنے کے لیے بیرون ملک سفر کو آسان ہی بنادیا جائے، تاکہ لوگ غیر قانونی راستوں پر زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی بجائے قانونی راستوں سے روزگار کے لیے بیرون ملک جا سکیں۔
٭٭٭
Share this content:


