کسی بھی انسان کے زندگی کے مقصد کو جاننے کے لیے اس انسان کے کاٸناتی تصور کو جاننا لازم ھے یہ کامریڈ آفتاب احمد سے سیکھے اور سمجھے ھوۓ الفاظ ھیں اور آج کامریڈ آفتاب کے لیے ہی تحریر کر رہا ھوں۔
کامریڈ آفتاب نے کاٸنات کے مارکسی تصور کو درست مانتے ھوۓ اپنی زندگی کے لیے عظیم مقصد کا تعین کیا ایک مادیت پسند مارکسیسٹ ھونے کے ناطے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی نجات اور دنیا بھر کے محکوموں اور مظلوموں کی سامراجیت جاگیرداریت اور سرمایہ داریت کے شکنجوں سے آزادی کے لیے جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے باٸیں بازو کی سیاست کا انتخاب کیا۔اور اپنی ساری زندگی ان عظیم مقاصد کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔اپنے انسان دوست رویے اور بے مثال کریکٹر کے باعث محنت کشوں میں گُلے ملے تھے۔ان کے انسان دوست رویے اور عوام دوست کردار پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ھے۔لیکن یہاں ان کی سیاسی اور انقلابی جدوجہد کے چیدہ چیدہ پہلو کا ذکر کرنا مقصود ھے۔چونکہ انکی جدوجھد کا تفصیلاً ایک آرٹیکل میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ھے۔
کامریڈ آفتاب نے مارکسزم کا گہراٸی سے مطالعہ کیا اور سچ اور درست کی تلاش میں نہ صرف خود رہے بلکہ اپنے ہلکا احباب اور بلخصوص نظریاتی دوستوں کو بھی ہمیشہ یہی ترغیب دیتے تھے۔ان کی اسی جستجو اور کھوج نے انھیں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی تک لایا اور بعد ازاں اپنی موت کے وقت وہ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے۔
کامریڈ آفتاب ہمیشہ زور دیتے تھے کہ سماج کی ساٸنس کو سمجھا جاۓ۔انقلابی جدوجھد میں مثبت نتاٸج کے لیے مارکسی نقطہ نظر کی بنیاد پر اپنے سماج کا ٹھوس تجزیہ ہی ہمیں اس قابل بنا سکتا ھے کہ ھم مارکسزم کو اپنے سماج کو بدلنے کے لیے بطور نظریہ استعمال کر سکیں۔وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کے مارکسزم سماج کی ساٸنس ھے جس کی بنیاد پر اپنے سماج کے معروضی اور موضوعی عنصر ۔دوست اور دشمن قوتوں کا درست تجزیہ کیا جا سکتا ھے۔
کامریڈ آفتاب پارٹی کامریڈز سے ہمیشہ یہ شکوہ رکھتے تھے کہ برسٹر قربان کے لٹریچر کا دوست گہراٸی سے مطالعہ نہیں کرتے اگر یہ کہا جاۓ تو غلط نہ ھو گا کہ وہ برسٹر قربان علی کے تحریر کردہ لٹریچر سے بے حد متاثر تھے اور یہ زور دیتے تھے کے پارٹی راہنما اور پارٹی کیڈر اس کا گہرا مطالعہ کریں۔وہ اس پر مکمل یقین رکھتے تھے کے ریاست جموں کشمیر کے قومی سوال سمیت سماج اور تنظیم کی ساٸنس کو سمجھنے کے لیے برسٹر قربان علی کا تحریر کردہ لٹریچر ہی درست راٸنماٸی کر سکتا ھے۔
کامریڈ آفتاب کا یہ پختہ یقین تھا کہ منظم انقلابی تنظیم کے بغیر انقلاب کے لیے جدوجہد محض آزاد خیالی ھے۔کامریڈ تنظیم کی ساٸنس کا گہرا علم رکھتے تھے۔ اور ہمیشہ اپنی گفتگو میں ایسا انقلابی کیڈر تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے جو نظری فکری اور سیاسی طور پر منظم تنظیم میں پرویا ھو۔تنظیم پر یقین محکم رکھتے تھے۔پارٹی اداروں کو مضبوط کرنے میں اپنا عملی کردار ادا کرتے رہے جب بھی کبھی کسی بھی ایشو پر کسی برانچ کے ممبر نے ان سے راۓ طلب کی تو انھوں نے اپنی متعلقہ برانچ میں رجوع کرنے پر زور دیا۔محض لفظوں سے نہیں عمل سے انھوں نے پارٹی کی ضلعی اور لوکل سطح کی برانچیز اور یونٹوں کو با اختیار بنانے کی جدوجہد کی یہ ان کی تنظیم کے اندر نظریاتی جدوجہد کا ایک خاصا تھا۔وہ نوجوان کیڈر کو تنظیم کا شعور دینے کی ضرورت پر بہت زور دیتے تھے۔
انقلابی پارٹی اور اس کے کردار پر گلگت بلتستان کے دوستوں کے ساتھ بھی ایک تسلسل کے ساتھ ان کا مباحثہ جاری رہتا تھا جس کی بنیاد پر نظری اور فکری اعتبار سے گلگت بلتستان اور نام نہاد آزاد کشمیر کے انقلابی نوجوان خاصے قریب ترین آۓ۔گلگت بلتستان کے دوستوں کے ساتھ کامریڈ آفتاب احمد اور کامریڈ عمران شان نے ایک لمبے عرصے سے مسلسل مکالمہ بناۓ رکھا جس کے بہت بہتر نتاٸج سامنے آۓ اور مستقبل میں مزید نتیجہ خیز ثابت ھونے کی توقع ھے۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے کامریڈ کا واضح موقف رہتا تھا کہ نام نہاد آزاد کشمیر کے حکمران طبقے نے قابض پاکستان کے حکمران طبقے کی ایما پر نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان نفرتیں پیدا کیں جس کی بنیاد معاہدہ کراچی ھے۔گماشتہ حکمران طبقے نے یہ معاہدہ گلگت بلتستان کے عوام کی مرضی اور منشا کے بر خلاف ہی نہیں کیا بلکہ نام نہاد آزاد کشمیر کے عوام کی راۓ بھی اس میں شامل نہیں تھی۔اس لیے موجودہ نوجوانوں کو دونوں اطراف اس سازش کو سمجھتے ھوۓ عوام کے سامنے بے نقاب کرنا ھو گا۔
کامریڈ آفتاب اس نعرۓ اور موقف کے سخت خلاف تھے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا سر ھے اور حصہ ھے۔ان کا موقف تھا کہ آج ضرورت اس امر کی ھے کہ گلگت بلتستان اور نام نہاد آزاد کشمیر کے عوام کو نٸے سرۓ سے رشتے منظم کرنے ھوں گے۔کیوں کہ ریاست جموں کشمیر کی تمام اکاٸیوں پر غیر ملکی قبضہ ھے اور کسی بھی اکاٸی کے عوام علیدہ سے تنہا جدوجہد کر کے اس غاصبانہ قبضے سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔بلکہ بیرونی غاصب قوتوں کے ساتھ اس مشترکہ تضاد کی بنیاد پر تمام اکاٸیوں کے عوام کو مشترکہ جدوجہد کرنا ھو گی۔اور یہ جدوجہد اپنی اپنی اکاٸیوں کے معروض کے مطابق کرنا ھو گی جس کے لیے جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا پروگرام واضح اور ٹھوس ھے۔
گلگت بلتستان کے دوستوں بابا جان۔احسان ایڈوکیٹ۔شبیر مایار سمیت دیگر دوستوں سے ان کی یہ گفتگو رٸتی تھی کے گلگت بلتستان میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے پروگرام پر جدوجہد کرنے کے لیے وہاں کے معروض کو مدنظر رکھتے ھوۓ آپ دوست انقلابی پارٹی بناٸیں۔تا کہ ھم دونوں اکاٸیوں میں اتحاد میں رہتے ھوۓ انقلابی جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔ریاست جموں کشمیر کے قومی سوال پر لکھے گٸے کٸی آرٹیکلز میں انھوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ اپنا موقف سامنے لایا۔
ترقی پسند اور قوم پرست پارٹیوں کے اتحاد کے حوالے سے ان کا یہ موقف تھا کہ جے کے پی این پی نے یہ فیصلہ کیا ھوا ھے کہ کم سے کم مشترکہ شراٸط پر صرف ایسی پارٹی یا گروپ کے ساتھ اتحاد کیا جا سکتا ھے جو کسی بیرونی غاصب قوت کے حکمران طبقے ایجنسیز یا اداروں کا آلہ کار نہ ھو۔اس موقف کو ساتھ رکھتے ھوۓ کامریڈ آفتاب نے جب بھی کسی تنظیم کی قیادت یا کیڈر سے گفتگو رکھی تو واضح موقف اپنایا کہ اتحاد اس بنیاد پر ھو سکتا ھے کہ مشترکہ نظریاتی تربیت کا عمل اور مشترکہ سیاسی سرگرمیوں کا عمل ھو۔مشترکہ نظریاتی تربیت کے عمل کے بغیر صرف سیاسی سرگرمیوں کے لیے کیے جانے والے اتحاد کو وہ پارٹی شاونزم آزاد خیالی وقت گزاری اور عہدوں کے لیے لڑاٸی سے تشبیح دیتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ ایسے اتحادوں کے مقاصد بہت چھوٹی نوعیت کے ھوتے ھیں اور عہدوں کی لڑاٸی میں یہ اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھو جاتے ھیں جس سے سماج میں مزید مایوسی پھیلتی ھے۔
ان کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ نام نہاد آزاد کشمیر کے قوم پرست مخاصمانہ تضاد کو چھوڑ کر غیر مخاصمانہ تضاد کے پیچھے بھاگ رہے ھیں۔جب تک ھم بنیادی اور غیر بنیادی تضاد میں فرق نہیں کرتے ھماری جدوجہد ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی۔یہی وجہ ھے کہ قوم پرست تنظیموں کو زندہ رکھنے کے لیے مہم جوٸی کا سہارا لیا جاتا ھے جو کہ انقلابی جدوجہد کے لیے انتہاٸی نقصان داہ عمل ھے۔
آخری چند ماہ میں سوشل میڈیا پر مہاراجہ حمایت اور مہاراجہ مخالفت مباحثہ چل رہا تھا جس پر کامریڈ آفتاب نے سٹانس لیا تھا کہ حکمران طبقے کی تاریخ اور عوام کی تاریخ میں ہمیں فرق کرنا چاہیے۔عوام اور حکمران طبقے کی تاریخ کو عوام اور حکمران طبقے کے درمیان پاۓ جانے والے طبقاتی تضاد کی بنیاد پر سمجھنے اور بیان کرنے کی ضرورت ھے۔
عوام کی سچی اور حقیقی تاریخ سے سابق لیتے ھوۓ ھم عوام کی نجات کی لڑاٸی لڑ سکتے ھیں اور حکمران طبقے کو شکست فحاش دۓ سکتے ھیں۔ہمیں ابہام کا شکار ھو کر حکمران طبقے میں سے کسی کو درست اور کسی کو غلط ثابت کرنے کے مباحثوں میں وقت ضاٸع نہیں کرنا چاٸیے۔بلکہ عوام کی تاریخ سے سیکھتے ھوۓ عوام کو انقلابی بنیادوں پر منظم کرنے کی جدوجہد کے لیے اپنی تمام تر تواناٸیاں صرف کرنی چاٸیے۔
پاکستان میں موجود قومی سوال اور پاکستان کے باٸیں بازو کے بارۓ میں کامریڈ آفتاب احمد دو ٹوک موقف رکھتے تھے کہ پاکستان میں سرمایہ داریت پنپ نہیں سکی اور جاگیرداریت مضبوط شکل میں اپنے پنجے گاڑھے ھوۓ ھے ایسے سماج میں پانچ قومیں مل کر ایک قوم تشکیل نہیں دے سکتیں ایسا سرمایہ داریت کے عروج میں ممکن ھے۔پاکستان جاگیرداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔یہی وجہ ھے کہ روزِ اول سے جاگیردار۔ملاں ملٹری اتحاد نے یہاں جاگیردارانہ باقیات کا مکمل تحفظ کیا ھے۔
پاکستان میں پانچ قوموں کو جو اپنی اپنی تہذیب۔ثقافت۔زبان رکھتی ھیں مذہب کے نام پر دھونس دھندلی اور طاقت کے زور پر ایک قوم بنانے کا جو فلسفہ دیا گیا تھا اپنی مدت پوری کر چکا ھے اور دو قومی نظریہ 1971 میں ہی غلط ثابت ھو گیا تھا۔مستقبل میں پختون اور سندھی عوام کی جانب سے قومی آزادی کا سوال شدت سے سامنے آۓ گا۔
بلوچ عوام پہلے ہی قومی آزادی کی جدوجہد کو حتمی مراحل میں داخل کر چکے ھیں۔کامریڈ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے تھے اور ان کا یہ موقف تھا کہ بلوچوں نے اپنے سماج کی ساٸنس کو سمجھا اور قومی آزادی کی تحریک کو منظم کیا اور بے تحاشا لازوال قربانیاں دۓ کر اپنی قومی آزادی کی تحریک کو سرداریت کے قبضے سے باہر لاۓ۔بلوچوں کی قومی آزادی کی تحریک کو دنیا کی کوٸی طاقت شکست نہیں دۓ سکتی۔یہ تحریک عوام کی تمام پرتوں میں منظم شکل اختیار کر چکی ھے۔بلوچوں کی قومی آزادی کی تحریک کی فتح اور پاکستانی ریاست کے جابرانہ قبضے کی شکست ایک نا گزیر حقیقت بن چکی ھے۔
پاکستان کے باٸیں بازو پر انھوں نے ہمیشہ مثبت تنقید کی ان کا موف تھا کہ چند حقیقی مارکسیسٹ قوتوں کو چھوڑ کر باقی تمام پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو فروغ دیتے ھیں۔پنجاب کی ڈومینیشن کو جاری و ساری رکھنے کے لیے پنجاب کی علیڈ کلاس اور اسٹیبلشمنٹ کا جو کردار ھے اس پر پنجاب کے باٸیں بازو نے درست اور اصولی موقف کبھی نہیں اپنایا۔یہی وجہ ھے کہ ریاست جموں کشمیر۔بلوچستان اور دیگر اقوام کے قومی سوال کی کبھی انھوں نے کھل کر حمایت نہیں کی ھے۔
کامریڈ آفتاب کی تحریروں میں یہ واضح موقف ھے کہ پاکستان کے اکثریتی نام نہاد باٸیں بازو نے ایک طرف مزدور بین الاقوامیت کا اپنے آپ کو دعویدار کہا تو دوسری طرف اپنی ریاست کے حکمران طبقے کی جانب سے محکوم اقوام کے محنت کش طبقے کی سیاسی ۔معاشی و قومی آزادی کو سلب کرنے کے عمل کو کسی قسم کی مزحمت دینا تو دُور اپنا واضح مارکسی بنیادوں پر نقطہ نظر بھی سامنے نہیں لایا۔
بلوچستان میں ریاست پاکستان کی جانب سے بلوچ عوام کی اجتماعی نسل کشی پر پاکستان کے باٸیں بازو کی خاموشی ریاستی حکمران طبقے اور اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت اور محکوم و مظلوم بلوچ عوام کی نجات کی جدوجہد کی عملاً مخالفت ھے۔
مزدور بین الاقوامیت پر کامریڈ پختہ یقین رکھتے تھے کہ سرمایہ داریت اور سامراجیت کی شکست اور محنت کش و محکوم عوام کی فتح ایک زندہ جاوید حقیقت ھے۔دنیا بھر کے محنت کش و محکوم ایک ھوں گے اس کے لیے محنت کش طبقے کو اپنے اپنے سماج میں استحصالی طبقات جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف منظم جدوجہد کرنا ھو گی۔اور ایک دوسرۓ کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرنا ھو گی۔
سرمایہ داریت اور سامراجیت کا خاتمہ اور ایک مزدور دنیا کی تشکیل اسی صورت ممکن ھے کہ قومیں برابری کی بنیاد پر ایک دوسرۓ میں شیر و شکر ھو جاٸیں گیں۔اور ایسا تبھی ممکن ھے جب قوموں کے درمیان برابری کی بنیاد پر رشتے استوار ھوں گے۔
کامریڈ آفتاب احمد چلتی پھرتی مارکسی اکیڈمی تھے۔نوجوانوں کے ساتھ ہر وقت سماج محنت کشوں کی اپنی انقلابی تنظیم اور مزدور بین الاقوامیت ۔مارکسزم پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ جو خود سیکھا سمجھا اور مطالعہ کیا اسے نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے ہر وقت متحرک رہتے تھے۔یہی وجہ ھے کہ جب وہ راولپنڈی تھے تو وہاں ایک سے زاٸد سٹڈی سرکل قاٸم کیے ھوۓ تھے۔اور بعد ازاں جب ھجیرہ آۓ یہاں بھی پارٹی کا تحصیل سطح کا سٹڈی سرکل قاٸم کیا جس میں جے کے پی این پی کے کارکنوں کے علاوہ دیگر قوم پرست اور ترقی پسندطلبا تنظیموں کے کارکن بھی حصہ لے رہے تھے۔ جس کی بنیاد پر وہاں مزاحمتی تنظیموں کا ایک اچھا غیر اعلانیہ اےحاد قاٸم ھو گیا تھا اسی پلیٹ فارم سے بعد میں پر امن عوامی مارچ بھی کیے گٸے تھے۔
ایک مارچ پر پولیس لاٹھی چارج کے دوران کامریڈ آفتاب زخمی ھو گٸے تھے اور دوسرۓ مارچ میں پارٹی راٸنما واجد علی ایڈوکیٹ زخمی ھو ۓ۔کامریڈ آفتاب مزمتی سیاست میں نہ صرف خود متحرک تھے بلکہ جہاں بھی موجود ھوتے وہاں نوجوانوں کو متحرک کر دیتے تھے یہ ان کے اندر فطری صلاحیت تھی۔
کامریڈ آفتاب باٸیں بازو کے متحرک سیاسی راہنما ھونے کے ساتھ ساتھ انقلابی مارکسی دانشور بھی تھے۔کامریڈ آفتاب میں لکھنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔تسلسل کے ساتھ۔مارکسی نظریات۔مُلکی ۔ریجنل اور بین الاقوامی بدلتی صورتحال کرنٹ ایشوز۔نوجوانوں اور طلبا کے متحرک کردار پر آرٹیکل لکھتے رہے۔اپنی اس غیر معمولی صلاحیت کو انھوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ محنت کش عوام کو منظم کرنے۔محنت کش عوام اور حکمرانوں کے درمیان بنیادی تضاد کو گہرا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ان کی تحریر و تقریر میں ہمیشہ عوام دوستی اور حکمران دشمنی کا درس ھوتا تھا۔
کامریڈ آفتاب نے جس طرح تنظیم اور سماج کی ساٸنس کو سمجھنے والے نظریاتی کیڈر کی تیاری کے لیے انتھک محنت کی اسی طرح انھوں نے نوجوان لکھاری تیار کرنے کی عملاً کوشیشیں کیں۔لکھنے کے عمل میں نوجوانوں کی نہ صرف راٸنماٸی کرتے رہے بلکہ مجھ جیسے طالبِ علموں سے زبردستی بھی لکھواتے رہے اور غیر محسوساتی انداز میں لکھنے کا شوق پیدا کرتے رہے۔
آج نام نہاد آزاد کشمیر کے لکھنے والے نوجوانوں میں بہت سارۓ مرد و خواتین کامریڈ آفتاب کے ہی تیار کردہ ھیں۔جن کو آرگناٸز مطالعے پر لگایا اور لٹریچر تک کا بندوبست کر کے دیتے رہے۔کامریڈ آفتاب نے بہت ٹوٹی پھوٹی تحریریں لکھنے کے باوجود نوجوانوں کے حوصلے کو مزید بڑھایا اور نوجوانوں کی راٸنماٸی کے لیے تحریر دیکھنے کے بعد وہ باقاعدہ کتاب منتخب کرتے تھے مطالعہ کرنے کے لیے۔ایک بہترین لکھاری ھونے کے ساتھ ساتھ بہترین معلم بھی تھے۔
انھوں نے جدوجہد کے عمل میں اپنے متبادل کے طور پر سیاسی سرگرمیوں کو تخلیق کرنے والے۔نظریاتی لیکچر دینے والے ۔ لکھنے والے۔بولنے اور سوچنے والے درجنوں کاڈر تیار کرنے کی سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں اور بہت فوکس کر کے کیں۔اب ان درجنوں نوجوانوں سے آفتاب احمد کا متبادل پیدا ھونا تو بہت مشکل ھے کیوں کے انھوں نے جسمانی طور پر جدا ھونے میں بہت زیادہ جلدی کی۔لیکن ایک بات پورۓ وثوق کے ساتھ کٸی جا سکتی ھے کہ اس چلتی پھرتی مارکسی اکیڈمی کے تیار کردہ نوجوان اس خطے نام نہاد آزاد کشمیر سے لیکر گلگت بلتستان۔پاکستان اور بین الاقوامی دنیا تک سرمایہ دار جاگیردار طبقے اور سامراج کے خلاف مزاحمت کی علامت ضرور بنے رٸیں گے۔
کامریڈ آفتاب آج جسمانی طور پر ھم میں نہیں رہے اس کا یقین کرنا بھی نا ممکن ھے۔لیکن وہ چلتی پھرتی مارکسی اکیڈمی کے طور پر زندہ رٸیں گے نوجوانوں کے دلوں میں ۔محنت کش عوام کے دماغوں میں اور مارکسزم کے نصابوں میں۔میرۓ پاس نہ ہی وہ ولفاظ ھیں جو کامریڈ آفتاب کی لازوال جدوجہد کا احاطہ کر سکیں۔اور نہ ہی اس طرح لکھنے کی صلاحیت ھے اور نہ ہی اس معیار کا مطالعہ ھے۔جو ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھنے کی جسارت ھوٸی ھے کامریڈ آفتاب کی اس کے پیچھے بہت بڑی محنت کارفرماں ھے۔
مجھ جیسے کارکن کے پاس بولنے کے لیے زبان تو تھی لیکن اسے ڈھنگ کے ساتھ بولنے کا طریقہ کامریڈ آفتاب نے دیا۔ہاتھ میں قلم تو تھی مگر اس کی نوک سے نکلنے والے الفاظ کامریڈ آفتاب کی کوششوں اور محنت کا نتیجہ ھیں۔مارکسی نظریات کے ساتھ کتنا کومیٹیڈ تھا وہ مارکسی راٸنما و دانشور جو مجھ جیسے ادنی سے سیاسی ورکر کو بھی اس قابل کر گیا کہ اس کی جدوجہد پر چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ سکوں۔
لال سلام ھے متحرک انقلابی راہنما و مارکسی دانشور کامریڈ آفتاب کو۔ریاست جموں کشمیر کی قومی آزادی۔برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن اور عالمی مزدور دنیا کے قیام کی جدوجہد میں اس چلتی پھرتی اکیڈمی سے تیار نوجوان اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔
٭٭٭
Share this content:


