جموں و کشمیر میں اضافی 2ہزار پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد (کاشگل خصوصی رپورٹ)

پاکستان کے مقبوضہ جموں کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی عوامی تحریک کوروکنے لئے جموں و کشمیر حکومت کی درخواست پر پاکستان کی وفاقی نے پولیس کی بھاری نفری بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں دفتر انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق مجموعی طور پر 2000 پولیس اہلکار اور افسران جموں و کشمیر میں عارضی طور پر تعینات کیے جائیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بھیجے جانے والے اہلکاروں میں ایس ایس پیز، ایس پیز، ڈی ایس پیز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز، ہیڈ کانسٹیبلز اور دیگر عملہ شامل ہیں۔

پولیس نفری کا تعلق مختلف ڈویژنز بشمول آپریشنز ڈویژن، سی ٹی ڈی، آئی ٹی پی، لاجسٹکس، سیکیورٹی ڈویژن، سیف سٹی، اسپیشل برانچ، اے آر ایف (لاء اینڈ آرڈر) اور سی پی سی سے ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور حساس مقامات پر سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے پیش نظر عمل میں لائی جا رہی ہے۔

اعلیٰ پولیس حکام نے اس تعیناتی کو "ٹاپ پرایؤرٹی” قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ متعلقہ افسران و جوان فوری طور پر روانگی کے لیے تیاری کریں تاکہ وقت پر جموں و کشمیر میں نفری کی تعیناتی یقینی بنائی جا سکے۔

واضع رہے کہ جموں کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کو مقبوضہ ریاست میں بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لئے ایک عوامی احتجاج کی کال دی ہے اور کو کامیاب بنانے کے لئے گذشتہ ایک مہینے سے آگاہی مہم چلا ہی جارہی ہے۔

Share this content: