حویلی /کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع حویلی میں جنگلات کے قدرتی وسائل پر مافیا کا کھلا قبضہ جاری ہے۔
محکمہ جنگلات کی مبینہ سرپرستی اور حکومتی اداروں کی مجرمانہ خاموشی سے یہ علاقہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
مورخہ 4 دسمبر 2025 کو یونین کونسل بھیڈی، گاؤں ڈبہ میں قیمتی لکڑی کا ایک بڑا ذخیرہ سڑک پر لایا گیا، جسے بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ تمام کارروائی محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے علم میں ہی نہیں بلکہ سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔
علاقے کے عوام کئی بار احتجاج، مظاہرے اور شکایات کے ذریعے اپنی آواز بلند کر چکے ہیں، مگر جتنا وہ چیختے ہیں، اتنی ہی تیزی سے جنگلات کا صفایا ہوتا جاتا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا محافظ ہی لٹیروں سے مل گئے ہیں؟
دوسری جانب یونین کونسل بدہال شریف، کمپارٹ نمبر 23، رقبہ چھمبر میں گزشتہ چار دن سے خوفناک آگ لگی ہوئی ہے۔ قیمتی درخت، چرند پرند اور جنگلی حیات راکھ ہو رہے ہیں۔ لیکن متعلقہ محکمہ کی طرف سے اب تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آگ قدرتی نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جنگل کو جان بوجھ کر راکھ کر کے اسے سفید زمین قرار دیا جا رہا ہے تاکہ بعد میں اسے لینڈ مافیا کو بیچا جا سکے۔
جب محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کے اہلکار موقع پر پہنچتے ہیں تو ان کا رویہ ایک تماشہ بن چکا ہے۔ کپڑے سے حدود ناپنا، انگلیوں سے اشارہ کرنا اور آنکھوں کے اندازے سے قیمتی زمینوں پر نشان دہی کرنا، گویا کوئی کارٹون شو ہو۔ عوام کو آلو کا پٹھہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کے سامنے ڈرامے بازی کی جاتی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی، سول سوسائٹی اور باشعور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے۔ جنگلات کی تباہی میں ملوث افسران کو معطل کر کے سزا دی جائے ۔ لگی ہوئی آگ پر فوری ہیلی کاپٹر اور فائر بریگیڈ کے ذریعے قابو پایا جائے ۔ شجرکاری مہم کا آغاز کیا جائے اور غیر جانبدار اور باکردار افسران تعینات کیے جائیں ۔
بصورت دیگر، عوام کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوٹ مار نہ رکی تو وہ احتجاج کا دائرہ کار دارالحکومت تک بڑھائیں گے۔
Share this content:


