عوامی ایکشن کمیٹی نے نئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل مسترد کردی

مظفرآباد /کاشگل خصوصی رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتِ جموں و کشمیر کی جانب سے مراعات کے معاملے پر نئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے 4 اکتوبر کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکمران طبقات، بیوروکریسی اور عدلیہ کی مراعات کے مکمل خاتمے کا مطالبہ ابتدا سے ہی ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا بنیادی حصہ ہے، مگر حکومت مسلسل بدعہدی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

ترجمان جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق 13 مئی 2024 کو حکومت نے مراعات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کمیٹی نے جون 2025 تک صبر و تحمل کے ساتھ عمل درآمد کا انتظار کیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث کمیٹی نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ دوبارہ مرتب کر کے حکومت کو پیش کیا، جس میں واضح طور پر مراعات کے خاتمے کا مطالبہ شامل کیا گیا۔

گزشتہ روز حکومت کی طرف سے ایک نئے جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کی سربراہی ایک حاضر سروس جج کو دی گئی ہے۔ کمیٹی نے اس نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ جن جج صاحبان کو اس کمیشن میں شامل کیا گیا ہے وہ خود بھی سرکاری مراعات کے beneficiary ہیں، اس لیے وہ غیر جانب دارانہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ کو اس عمل سے استثنیٰ دینا عوام اور شہدائے عوامی حقوق تحریک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ مراعات کے اہم ترین معاملے کو جوڈیشل کمیشن کی آڑ میں "دفن کرنے کی حکومتی کوشش” کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

ترجمان کے مطابق حکومت کو 4 اکتوبر کے معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرنا ہوگا، ورنہ عوامی ایکشن کمیٹی مزید لائحہ عمل طے کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Share this content: