انقلاب ! تبدیلی کی لہریں جو تاریخ لکھتی ہیں۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

انقلاب ایک ایسی ہمہ گیر تبدیلی کا نام ہے جو کسی قوم کی سیاسی، معاشی، سماجی اور فکری زندگی کو جڑ سے بدل کر رکھ دیتا ہے۔ جب ظلم اپنی آخری حدوں کو چھو لے، جب معاشی ناہمواری انسان کے وقار کو روندنے لگے اور سیاسی استحصال عوام کی آواز کو دبا دے تو پھر جمود کی بوسیدہ دیواروں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک ایسی خاموش چنگاری جنم لیتی ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے شعلہ بن جاتی ہے۔ عوام کا شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ اپنے مقدر کا فیصلہ خود لکھنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وہ ساعت ہوتی ہے جسے دنیا انقلاب کے نام سے جانتی ہے۔

دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ انقلاب سب سے پہلے سیاست کے ایوانوں میں زلزلہ لاتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب نے بادشاہت کے تاج و تخت کو خاک میں ملایا اور دنیا کو یہ اصول سکھایا کہ اقتدار عوام کا حق ہے۔ روسی انقلاب نے بھی ثابت کیا کہ جب عوام طاقت بن جائیں تو صدیوں کی حکومتیں لمحوں میں ماضی بن جاتی ہیں۔ سیاسی انقلاب صرف حکمران نہیں بدلتا بلکہ سوچ کا دھارا اور اقتدار کی بنیاد بدل دیتا ہے۔

سماجی انقلاب اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان کی عزت نفس کو کچلا جائے۔ رنگ، نسل، ذات اور جنس کے نام پر کی گئی تقسیم جب ظلم کی شکل اختیار کرے تو سماجی بیداری ایک نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد نے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ برابری اور آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی تحریکوں نے بھی ثابت کیا کہ آدھی آبادی کو پیچھے رکھ کر ترقی ممکن نہیں۔

معاشی انقلاب کا سفر اُس دن شروع ہوتا ہے جب محنت کش طبقہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر دولت چند ہاتھوں تک محدود کیوں رہے؟ جب مزدور جاگیردار اور سرمایہ دار کی غلامی سے نکل کر اپنے حقوق کی جنگ میں کامیاب ہوتا ہے تو معاشی انصاف جنم لیتا ہے۔ چین کی معاشی تبدیلیوں نے یہ ثابت کیا کہ جب پالیسیوں کا مرکز عوام ہوں تو قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جاتی ہیں۔

تکنیکی اور صنعتی انقلاب نے دنیا کی رفتار بدل دی۔ بھاپ اور کوئلے کی مشین سے شروع ہونے والا سفر آج مصنوعی ذہانت تک پہنچ گیا ہے۔ دوریاں سمٹ گئیں، صنعت و تجارت نے نئی منزلیں پائیں اور علم کی دنیا نئی وسعتوں سے آشنا ہوئی۔ آج ہر دن ایک نئی ایجاد، ایک نئی تبدیلی، ایک نیا انقلاب لیے ہوئے ہے۔

لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ، ان سب انقلابات کی اصل بنیاد فکری اور نظریاتی انقلاب ہے۔ جب انسان سوچنے لگے، سوال کرنے لگے اور اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنا چاہے تو ذہن کی غلامی ٹوٹنے لگتی ہے۔ نظریاتی بیداری وہ پہلی کرن ہے جو ہر بڑے انقلاب کی نوید بنتی ہے۔

اسی فکری بنیاد پر مارکسسٹ اور لیننیسٹ نظریۂ انقلاب نے دنیا کو معاشی اور طبقاتی حقیقتوں سے آشنا کیا۔ کارل مارکس نے واضح کیا کہ جب معاشرہ طبقوں میں بٹ جائے اور سرمایہ دار محنت کشوں کو استحصال کا نشانہ بنائیں تو ایک لازمی عوامی انقلاب جنم لیتا ہے۔ لینن نے مارکس کے خیالات کو روسی انقلاب کے ذریعے عملی شکل دی اور دکھایا کہ منظم قیادت اور سیاسی شعور کے ساتھ غریب اور محنت کش بھی تاریخ بدل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روسی انقلاب کے بعد دنیا بھر کے محروم طبقات میں بیداری پیدا ہوئی اور آزادی و مساوات کے نئے تصور سامنے آئے۔

یوں انقلاب محض تخت و تاج کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کی سوچ، امید اور خواب کا ارتقاء ہے۔ اگر یہ تبدیلی شعور، انصاف اور امن کی بنیاد پر آئے تو ترقی اس کا مقدر ہوتی ہے۔ مگر اگر انتشار اور انتقام کے سائے اس پر غالب آ جائیں تو تباہی اس کا انجام بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود ایک بات اٹل ہے کہ جب ظلم اپنی آخری حدوں کو چھو لے تو انقلاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پھر نہ طاقتور رکاوٹ بن سکتے ہیں نہ جابر حکمران۔ جمود کی سیاہ رات کے بعد صبح ضرور طلوع ہوتی ہے اور یہی وہ تبدیلی کی لہریں ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں۔

٭٭٭

Share this content: