پاکستانی جموں و کشمیر میں خوف، پابندیاں اور انسانی جدوجہد۔۔۔ حبیب رحمان

سنہ 1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے فوراً بعد پاکستان کی فوج نے جموں و کشمیر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع کا مرکز بن گیا۔

یہ حملہ اور اس کے بعد کی کارروائیاں آج بھی کشیدگی اور عدم استحکام کی بنیاد ہیں۔ لائن آف کنٹرول نے پاکستان کے زیرِ انتظام اور بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں کو الگ کر دیا، لیکن اس علیحدگی کے باوجود عوام مسلسل خوف اور عدم تحفظ میں زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں دو اہم علاقے شامل ہیں: آزاد جموں و کشمیر (AJK) اور گلگت بلتستان (GB)۔ اگرچہ قانونی طور پر محدود خودمختاری موجود ہے، مگر اہم انتظامی، دفاعی اور خارجہ پالیسی کے فیصلے پاکستان کے اختیار میں ہیں۔

انتخابی عمل اور مقامی حکومت پر بھی پاکستان کا اثر غالب ہے، جس سے عوام کی آزاد نمائندگی اور حقِ حکمرانی محدود رہتے ہیں۔

عوام میں خوف اور عدم تحفظ:

پاکستان کے سخت کنٹرول کی وجہ سے AJK اور GB کے عوام میں مستقل خوف اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔ عوام اپنی زندگی اور مستقبل کے بارے میں شدید فکرمند ہیں۔ جب بھی لوگ اپنے بنیادی شہری حقوق، آزادی یا خودمختاری کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، پاکستان کی بھیجی ہوئی فورسز انہیں زبردستی دبانے کی کوشش کرتی ہیں، اور بعض اوقات قتل تک کر دیتی ہیں۔

2024 اور 2025 میں ہونے والے احتجاجات اس حقیقت کے واضح ثبوت ہیں، جن میں کم از کم 15 لوگ پاکستان کی بھیجی ہوئی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ عوامی مظاہرے اکثر سیکیورٹی فورسز کی شدید کارروائیوں کی زد میں آتے ہیں، اور لوگ اپنی رائے کھل کر ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ نوجوان نسل خوف اور مایوسی کے باعث اپنے علاقوں کو چھوڑ کر دیگر شہروں یا ملکوں کی طرف ہجرت کر گئی، اور تقریباً روزانہ نوجوان آبادی اپنے علاقوں سے منتقل ہو رہی ہے۔

اظہارِ رائے، حقِ حکمرانی اور وسائل کی ملکیت:

آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی محدود ہے۔میڈیا ادارے دباؤ اور نگرانی کی وجہ سے خود سنسرشپ پر مجبور ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین میں اظہار رائے کی آزادی کی اجازت نہیں، اور یہ صرف پاکستان کے حق میں محدود ہے۔

مقامی لوگ نہ صرف اپنے بنیادی حقوق بلکہ حقِ حکمرانی اور اپنے علاقے کے وسائل کی ملکیت کے حقوق سے بھی محروم ہیں۔ جب بھی لوگ اپنی خودمختاری یا وسائل کے استعمال کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستان کی بھیجی ہوئی فورسز انہیں دباتی ہیں۔

معاشرتی اور اقتصادی اثرات:

پاکستان کے کنٹرول نے دونوں خطوں میں عوام کی سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی آزادیوں کو محدود کر دیا ہے۔ زمین کے غیر شفاف حصول، ترقیاتی منصوبے اور انتظامی فیصلوں پر پاکستان کا براہِ راست کنٹرول عوام میں خوف اور عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔

نوجوان اور اہلِ فکر بڑے پیمانے پر ہجرت کر گئے، کیونکہ انہیں اپنے مستقبل میں ترقی، روزگار اور زندگی کے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ لوگ روزگار، تعلیم، اور بنیادی ضروریات کے لیے بھی غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عوامی مظاہرے اور احتجاجی کارروائیاں، جن میں 2024 اور 2025 کے دوران کم از کم 15 افراد پاکستان کی بھیجی ہوئی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ لوگ اپنی رائے آزادانہ طور پر ظاہر کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوف، پابندیاں اور سخت قوانین لوگوں کو خاموش رکھنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں، جس سے مقامی عوام کی روزمرہ زندگی اور امیدیں محدود ہو گئی ہیں۔

انسانی تجربات اور مشاہدات:

بڑے پیمانے پر ہجرت دیکھی گئی، اور نوجوان نسل تقریباً روزانہ اپنے علاقوں سے منتقل ہو رہی تھی۔ نوجوان جو اپنے علاقوں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ بھی غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے اپنے علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ مقامی لوگ اپنے وسائل اور زمینوں پر کنٹرول کھو چکے ہیں، اور ہر ترقیاتی منصوبہ یا اہم فیصلہ پاکستان کے حکام کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشی نقصان پہنچایا بلکہ تاریخ ثقافت اور عوام کی شناخت پر بھی گہرا اثر مرتب کیا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے علاقے آج بھی ایک پیچیدہ حقیقت کے عکاس ہیں، جہاں قومی محرومی سیاسی دباؤ، خوف، اقتصادی مشکلات، اور انسانی حقوق کی کمی نے عوام کو غیر محفوظ اور مسلسل ہجرت کی جانب مائل کر دیا ہے۔ عوام کی آزادی، حقِ حکمرانی، اور وسائل پر ملکیت کے حقوق مسلسل محدود ہیں۔

اس سب کے باوجود لوگ اپنی زندگیوں اور حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، مگر ان کی آوازیں کچل دی جاتی ہیں۔ جموں و کشمیر کے یہ علاقے انسانی حقوق، معاشرتی آزادی، حقِ حکمرانی اور وسائل کے حق کے حوالے سے عالمی توجہ کے مستحق ہیں، تاکہ مقامی عوام اپنی زندگیوں کو تحفظ اور وقار کے ساتھ گزار سکیں۔

***

Share this content: