پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے باغ میں جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام "عوامی حقوق تحریک اور نئی صف بندیاں” کے عنوان سے مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔
شرکا نے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں چلنے والی حالیہ عوامی حقوق تحریک بنیادی انسانی حقوق کی عدم دستیابی اور عوام اور حکمران طبقے کے درمیان تضاد سے شروع ہوئی، جس کے تین سالہ حالات پر نظر دوڑائیں تو مسلسل ریاست، حکمران طبقے اور انتظامیہ سمیت پاکستانی رینجرز اور ایف سی، پی سی کی طرف سے عوام پر جارحیت تشدد اور قتل عام کیا گیا، انسانی حقوق کی پامالی کی گئی۔ حق مانگنے پر شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ آج کے دن کی مناسبت سے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دنیا بھر کے محنت کش عوام اور انقلابی تحریکوں اور امن پسند قوتوں کی اس طرف توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ 13 شہری شہید، درجنوں زخمی، متعدد سرکاری ملازمتوں سے نکالے گئے، سینکڑوں جعلی مقدمات، بوگس ایف آئی آرز، گرفتاریاں اور طرح طرح کی پابندیاں پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین تصویر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق تحریک نے بہت سی قربانیوں، مصائب اور تکالیف کے بعد حاصلات پائیں، جوکہ اس وقت تک صرف نوٹیفکیشن کی صورت میں ہیں لیکن ان حاصلات کو دیرپا بنانے، دقیانوسی اور فرسودہ نظام بدلنے کے لیے نئی صف بندیوں کی ضرورت ہے۔
مقررین نے کہا کہ تحریکی ارتقاء میں بتدریج صف بندی پختہ شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ان صف بندیوں کا طبقاتی بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہوئے تحریک کی حکمت عملی اور مستقبل کے فیصلے کرنا ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قیادت کا عوام دوست ہونا، عوامی ترجیحات کو اولین ترجیح دینا بنیادی اور اہم اصول ہے۔
شرکا نے مزید کہا کہ تحریک کے موجودہ مرحلے پر تحریک کی نئی طبقاتی صف بندیوں کو عمل کیساتھ پرکھنا متحرک نوجوانوں کے لیے بہت ضروری ہے تا کہ اپنی اجتماعی صلاحیتوں کے استعمال کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے ۔
مکالمے میں پارٹی برانچ ممبران کے علاؤہ متحرک سیاسی راہنما سردار عثمان کاشر اور امجد اسلام امجد نے بھی شرکت کی اور موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
Share this content:


