کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
آٹھ مارچ،محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو سراہا جا رہا ہے، وہیں پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً پینتیس سو لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے بنیادی حقوق کے لیے گزشتہ ایک ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز نے چھ فروری سے احتجاج کا آغاز کیا تھا، اور دو روز قبل انہوں نے پریس کلب کے سامنے سیکریٹریٹ جانے والی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، اب تک ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
احتجاج میں شریک لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ انہیں دہائیوں سے جن مسائل کا سامنا ہے، ان میں شامل ہیں:
- پینشن کی باقاعدہ ادائیگی
- سروس اسٹرکچر کی منظوری
- سروس اپ گریڈیشن
- ملازمت کے تحفظ اور مستقل حیثیت
ورکرز کے مطابق یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جن کے بغیر ان کی پیشہ ورانہ خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔
ایمپلائز ایسوسی ایشن خواتین ونگ کی صدر سیدہ یثرب نے احتجاجی ورکرز سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ:
"چاہے کورونا جیسی ناگہانی آفت ہو یا گھر گھر جا کر عوام کو آگاہی دینا، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہر مشکل میں فرنٹ لائن پر ڈٹی رہتی ہیں۔”
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان محنت کش خواتین کے دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
احتجاج میں شریک ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے کہا کہ خواتین کے عالمی دن پر ریاست کی جانب سے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ:
"ریاست کی محنت کش خواتین ایک ماہ سے سڑکوں پر بیٹھی ہیں اور کوئی ان کی شنوائی نہیں کر رہا۔”
ورکرز کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ محکمہ صحت سے وابستہ خواتین اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آئی ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد بار احتجاج کر چکی ہیں، مگر مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تمام مطالبات فوری طور پر منظور کیے جائیں۔ انہیں وہ حقوق دیے جائیں جن کے وہ برسوں سے منتظر ہیں۔ تاکہ وہ بلا خوف و رکاوٹ اپنی خدمات عوام تک پہنچا سکیں۔
٭٭٭
Share this content:


