پاکستانی کشمیر میں خودکشی کے واقعات میں خطرناک اضافہ،خواتین سب سے زیادہ متاثر

کاشگل نیوزخصوصی رپورٹ

پاکستانی کشمیر میں گزشتہ دو برسوں کے دوران خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ماہرین اور سماجی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں 34 افراد نے خودکشی کے ذریعے جان دی، جن میں 17 خواتین شامل تھیںجو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

مظفرآباد اور نواحی علاقوں کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں 35 خواتین نے خودسوزی کی کوشش کی۔جن میں 18 خواتین کو بروقت ریسکیو کر کے بچا لیا گیا۔اور 17 خواتین جانبر نہ ہو سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعات گھریلو تنازعات، ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات اور سماجی رویّوں کے بوجھ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ معاملہ حال ہی میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھی زیرِ بحث آیا۔

ویمن پارلیمانی کاکس کی چیئرپرسن اور رکن اسمبلی نثارہ عباسی نے ایوان میں ایک قانونی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
“خواتین میں خودکشی کے بڑھتے واقعات معاشرتی ناانصافی، گھریلو دباؤ اور معاشی مسائل کا نتیجہ ہیں۔ حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔”

ریسکیو 1122 اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر سردار وحید خان کے مطابق کئی خودسوزی کے واقعات کے پیچھے خاندانی جھگڑے یا دیگر جرائم بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ:
“بعض خواتین جو زندہ بچ جاتی ہیں، وہ شدید ذہنی دباؤ اور معاشرتی رویّوں کے باعث زندگی سے مایوسی کا اظہار کرتی ہیں۔”

ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں۔ ایک جامع، ریاستی سطح کی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، جس میں شامل ہو:

  • اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں نفسیاتی مشاورت مراکز
  • ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات
  • فوری مدد کے لیے ہیلپ لائنز
  • خواتین کے لیے قانونی تحفظ
  • گھریلو تشدد اور سماجی دباؤ کے خلاف مؤثر پالیسی سازی

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو خودکشی کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا بلکہ معاشرے کی مجموعی نفسیاتی صحت اور سماجی استحکام بھی شدید متاثر ہوگا۔

٭٭٭

Share this content: