ایرانی عوام جلادوں اور گِدھوں کے نرغے میں۔۔۔ حبیب رحمان

ایران آج ایک ایسا المیہ دیکھ رہا ہے جس میں عام شہری دو طاقتور مگر ظالمانہ قوتوں کے درمیان یرغمال بن چکے ہیں۔ ایک طرف اندرونی جلاد ہے جو ریاستی طاقت کے زور پر اپنی ہی عوام کی آواز دبانے میں مصروف ہے، اور دوسری طرف بیرونی گِدھ ہیں جو ایران کے زخموں پر منڈلا کر اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی تلاش میں ہیں۔

جب ایرانی عوام مہنگائی، بے روزگاری، سماجی پابندیوں اور بنیادی آزادیوں کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو انہیں تشدد، گرفتاریاں، قید اور حتیٰ کہ پھانسیاں ملتی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست محافظ نہیں بلکہ جلاد بن جاتی ہے۔ اختلافِ رائے کو غداری قرار دے کر کچل دینا کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے، اور ایران میں یہی عمل برسوں سے جاری ہے۔

مگر المیہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا۔ بیرونی دنیا، جو انسانی حقوق کی علمبردار بنتی ہے، ایران کے مسئلے کو انسانیت کے بجائے جغرافیائی سیاست کی عینک سے دیکھتی ہے۔ معاشی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور میڈیا کے مخصوص بیانیے—یہ سب حکمرانوں کے بجائے عام شہریوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ دوائیں مہنگی ہو جاتی ہیں، روزگار ختم ہوتا ہے اور زندگی مزید تنگ ہو جاتی ہے—یہی وہ مقام ہے جہاں بیرونی گِدھ اپنا کام مکمل کرتے ہیں۔

اندرونی جبر اور بیرونی دباؤ کے درمیان، ایرانی عوام نہ مکمل طور پر بول سکتے ہیں، نہ خاموش رہ کر محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کو اس طرح دو طرفہ ظلم کا سامنا کرنا پڑا، اس کے نتائج صرف اس ملک کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوئے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ایرانی عوام کا قصور کیا ہے؟ انہیں نہ جلاد کی تلوار چاہیے، نہ گِدھوں کے سائے،انہیں صرف ایک با عزت، محفوظ اور آزاد زندگی درکار ہے۔

٭٭٭

Share this content: