کشمیر میں خون کی اسکریننگ کا جدید ترین ادارہ شدید انتظامی غفلت کا شکار

مظفرآباد/کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم واحد ریجنل بلڈ سنٹر، جو پورے خطے میں خون کی اسکریننگ کا جدید ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے، شدید انتظامی غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔

حکومتِ جرمنی کی جانب سے عطیہ کی گئی جدید مشینری نہ تو مرمت کی جا سکی اور نہ ہی ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود محکمہ صحت نئی مشینری خریدنے میں کامیاب ہو سکا، حالانکہ اس مقصد کے لیے بجٹ بھی دستیاب تھا۔

ریجنل بلڈ سنٹر پورے پاکستانی کشمیر میں خون کی اسکریننگ کرنے والا واحد ادارہ ہے، تاہم الائزہ (ELISA) مشین کی عدم دستیابی کے باعث شہری محفوظ انتقالِ خون کی سہولت سے محروم ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعلقہ حکام تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نئی مشینری کی خریداری کے لیے دو کروڑ روپے کی گرانٹ بھی جاری کی گئی تھی، اس کے باوجود نہ تو نئی مشینیں خریدی جا سکیں اور نہ ہی موجودہ مشینری کو فعال بنایا جا سکا۔ مزید برآں، الائزہ مشین کا ٹینڈر سات ماہ قبل ایک مقامی کمپنی کو دیا گیا تھا، تاہم کمپنی تاحال مشین فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی طرح خون کے اجزاء (بلڈ کمپوننٹس) بنانے والی ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مشین بھی بلڈ سنٹر کو فراہم نہیں کی جا سکی۔

سول سوسائٹی اور مختلف سماجی حلقوں نے اس سنگین صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، وزیر صحت عامہ اور سیکرٹری صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محفوظ خون کی فراہمی براہِ راست انسانی جانوں سے جڑی ہوئی ہے، لہٰذا اس معاملے میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ سول سوسائٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دو ایام کے اندر اس معاملے پر عملی کارروائی نہ کی گئی تو وزیرِ اعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔

Share this content: