نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنما کامریڈ اقبال ابڑو کو چار روز تک مبینہ غیرقانونی حراست اور پولیس تشدد کے بعد آج کراچی سینٹرل جیل کے اندر قائم انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں کو ان کی حالت اور مقام کے بارے میں لاعلم رکھا گیا تھا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس کی جانب سے کامریڈ ابڑو پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے، جن میں ٹاولرز لمیٹڈ اور دیگر فیکٹریوں سے بھتہ لینے، ٹاولرز لمیٹڈ کے باہر ساتھیوں کے ہمراہ دھرنا دے کر مبینہ طور پر بھتہ طلب کرنے، اور مطالبات نہ ماننے کی صورت میں فیکٹری کو آگ لگانے اور مزدوروں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے جیسے دعوے شامل ہیں۔ مزدور تنظیموں نے ان الزامات کو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور مزدور تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
عدالت کے باہر بڑی تعداد میں مزدور رہنما اور کارکن موجود تھے، جنہوں نے کامریڈ ابڑو سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پیشی کے دوران کامریڈ اقبال ابڑو نے کہا کہ نظریاتی تربیت نے انہیں پولیس تشدد اور جبر کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
مزدور تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ ٹاولرز لمیٹڈ—جو پاکستان اکورڈ کے تحت آتی ہے اور انڈیٹیکس سمیت کئی بین الاقوامی برانڈز کو سامان فراہم کرتی ہے—یونین توڑنے اور مزدوروں کی جائز جدوجہد کو مجرمانہ رنگ دینے میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کی جانب سے مزدور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں عالمی برانڈز کے سپلائی چین اصولوں اور مزدور حقوق کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہیں۔
مقررین نے سندھ پولیس اور ٹاولرز لمیٹڈ کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منظم مزدور تحریک کو دبانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد ریاستی جبر، کارپوریٹ استحصال اور مزدور تحریک کے اندر موجود مزدور دشمن عناصر کے خلاف جاری رہے گی—چاہے یہ مقامی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر۔
Share this content:


