مظفرآباد /کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتِ جموں و کشمیر پر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو کھلا خط ارسال کر دیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 3 اور 4 اکتوبر 2025 کو وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر حکومتِ پاکستان کا اعلیٰ اختیاراتی وفد مظفرآباد آیا تھا، جہاں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے نے جموں و کشمیر کے عوام میں یہ امید پیدا کی کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہے، تاہم یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی اور حکومت کی جانب سے متعدد شقوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں۔
خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معاہدے کے آخری پیراگراف کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہر پندرہ دن بعد ہونا تھا، مگر 90 دن گزرنے کے باوجود صرف دو اجلاس منعقد کیے گئے۔ پانچ جنوری 2026 کو ہونے والا تیسرا اجلاس، وعدوں کی عدم تکمیل کے باعث، عوامی ایکشن کمیٹی نے بائیکاٹ کر دیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے توجہ دلائی ہے کہ جموں و کشمیر کے کئی اہم سرکاری و نجی ہسپتال تاحال اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے پینل میں شامل نہیں، جس کے نتیجے میں مستحق مریضوں کو راولپنڈی یا اسلام آباد جانا پڑتا ہے، اور یوں ہیلتھ کارڈ کی افادیت ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت عوام کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز ختم کی جانا تھیں، تاہم 103 دن گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں کو آج بھی کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر سے روزگار کی غرض سے بیرون ملک جانے والے کئی شہریوں کو ایئرپورٹس پر آف لوڈ کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے، بعد ازاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف انہیں مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ شدید ذہنی اذیت بھی برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق تعلیمی اداروں میں مہاجرین جموں و کشمیر کے نام پر جعلی ڈومیسائل ہولڈرز کو داخلے دیے جا رہے ہیں، جو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
خط میں ان عوامل کے علاوہ ثاقب مجید کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس پر احتجاجاً مذاکراتی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں، مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت سے باز پرس کریں اور ایک قاتل کی جماعت میں شمولیت کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر فوری اور مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
Share this content:


