رپورٹ: فرحان طارق
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر جو کبھی گھنے جنگلات اور سرسبز پہاڑوں کی وجہ سے “قدرتی جنت” کہلاتا تھا، آج ایک خاموش ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے۔
سرکاری و غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں یہاں جنگلات کا رقبہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ ایک وقت میں جہاں جنگلات خطے کے کل رقبے کا 11 فیصد سے زائد تھے، وہ اب سکڑ کر محض 6 فیصد کے قریب رہ گئے ہیں۔
یہ کمی صرف درختوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ موسمی توازن، آبی وسائل، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
لینڈ یوز پلانگ آزاد کشمیر اور سپارکو کی مشرکہ رپورٹ: خطرے کی واضح تصویر
لینڈ یوز پلانگ آزاڈد کشمیر اور پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کی مشترکہ سیٹلائٹ امیجری پر مبنی حالیہ رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع، بالخصوص مظفرآباد، نیلم، جہلم ویلی اور باغ اور حویلی میں جنگلات کی کٹائی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ غیر قانونی کٹائی،آبادی میں تیز اضافہ،سڑکوں اور ہاؤسنگ اسکیموں کی توسیع،اور کمزور نگرانی کا نظام جنگلات کے سکڑنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سپارکو کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور پانی کی قلت جیسے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ لینڈ یوزکے سابق ڈائریکٹر کا موقف
محکمہ لینڈ یوز آزاد کشمیر کے حال ہی میں ریٹائرڈ ڈائریکٹر مشتاق پیرزادہ نء بات کرتے ہوۓ کہنا تھا کہ جنگلات کی تباہی کوئی اچانک عمل نہیں بلکہ یہ برسوں کی غفلت اور ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ان کے مطابق کے خطے میں جہاں گرین پاسچر میں اضفہ ہوا ہے وہیں دیودار جیسے قیمتی درخت دن بدن کم ہوتے جار رہے ہیں جن کے بچائو کے لیے حکومت کے پاس بھی پالیسیاں نہیں۔
مشتاق پیر زادہ نے مزید کہا کہ اگر سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والی نسلوں کے لیے کچھ بھی نہیں بچے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی، کمیونٹی کی شمولیت اور سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
جنگلات بچاؤ مہم: مقامی
سرکاری ناکامی کے پس منظر میں مظفرآباد اور دیگر علاقوں کے مقامی نوجوان اب خود میدان میں آ چکے ہیں۔ جنگلات بچاؤ مہم سے وابستہ وادی نیلم سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم نوجوان وسیم خواجہ نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ
"یہ درخت صرف لکڑی نہیں، ہماری پہچان اور زندگی ہیں ۔”
وسیم خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ وادی نیلم میں جننگلات کی کٹائی محکمے کی ملی بھگت سےہو رہی ہے با اثر ٹمبر مافیا کو محکمہ جنگلات کی پشت پناہی حاصل ہے اور باقاعدگی سے منصوبہ بندی کے تحت کٹے ہو ئے درختوں کو چھپانے کے لیے جنگلات کو آگ لگائی جا رہی ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ جنگلات کو بچانے کے لیے مقامی آبادی کو شراکت دار بنایا جائے اور غیر قانونی کٹائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔
مستقبل کا سوال
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں جنگلات کا موجودہ تناسب مزید کم ہوا تو اس کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، سیاحت اور انسانی سلامتی بھی شدید متاثر ہو گی۔
یہ سوال اب شدت سے ابھر رہا ہے کہ:
کیا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنگلات صرف رپورٹوں اور تقاریر تک محدود رہ جائیں گے، یا واقعی انہیں بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے؟
Share this content:


