مظفرآباد/کاشگل نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع قدیمی اور سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ جامعہ کشمیر مظفرآباد میں ہراسمنٹ کے مبینہ واقعے کے خلاف طلبہ رات گئے سڑکوں پر نکل آئے۔
طلبہ نے جامعہ کے سٹی کیمپس کے سامنے دھرنا دے کر لال چوک کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ بند کر دی، جس کے باعث ٹریفک معطل رہی۔
احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعات کے اندر طالبات کو آئے روز ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، تاہم انتظامیہ مؤثر کارروائی سے گریزاں ہے۔
طلبہ کے مطابق آج بھی ایک طالبہ کو ایک پروفیسر کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ملوث پروفیسر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور طالبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کی کوشش کی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
طلبہ نے یاد دلایا کہ سال 2025 میں جامعہ کشمیر ایک طویل المدتی ہڑتال کی زد میں رہی تھی، جس کے دوران پیش کیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ میں اینٹی حراسمنٹ سیل کے قیام کا مطالبہ بھی شامل تھا، تاہم تاحال جامعہ انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
Share this content:


