انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو جیل بھیج دیا

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اس سے قبل دونوں کو عدالت جاتے ہوئے راستے میں پولیس نے گرفتار کیا تھا اور سخت پہرے میں کمرہ عدالت میں پیش کیا ۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو تھانہ سیکرٹریٹ میں گزشتہ برس درج ہونے والے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انھوں نے اس مقدمے کی ایف ائی آر عدالت میں پیش نہیں کی۔

اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو نقصِ امن یعنی لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنے، شر انگیزی پھیلانے اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر نے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مسترد کردی اور ان دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

اس سے قبل ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ ’ایمان اور ہادی کو گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتاری سے قبل انھیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، بدقسمتی سے (اسلام آباد) بار کچھ نہ کر سکی۔ یہ فسطائیت کا عروج ہے۔۔۔‘

وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ سے منسلک وکلا کے مطابق یہ دونوں متنازع ٹویٹ کے مقدمے میں سییشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں سوار ہو کر جا رہے تھے جب سرینا ہوٹل کے قریب پولیس نے اُن کی گاڑی کو روکا اور دونوں میاں بیوی کو حراست میں لے لیا۔

جس وقت پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی گاڑی میں ایمان اور ہادی کے ساتھ موجود تھے۔

Share this content: