آزاد جموں و کشمیر کی عوامی تحریک: یہ صرف مطالبات نہیں، وقار کی جنگ ہے۔۔۔ حبیب رحمان

آزاد جموں و کشمیر میں ابھرنے والی حالیہ عوامی تحریک محض چند معاشی مطالبات تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک وسیع تر عوامی بیداری اور شعور کی علامت بن چکی تھی۔ اس تحریک کی قیادت بنیادی طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مختلف عوامی تنظیموں نے کی، جنہوں نے مہنگی بجلی، گندم سبسڈی کے خاتمے، قدرتی وسائل پر مقامی حق اور اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے خلاف آواز بلند کی۔ تاہم ریاستی ردِعمل نے اس پرامن عوامی جدوجہد کو ایک سنگین انسانی اور سیاسی بحران میں تبدیل کر دیا۔

عوامی تحریک کا پس منظر

آزاد کشمیر طویل عرصے سے سیاسی، معاشی اور انتظامی محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ خطے میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود عوام کو مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور سے حاصل ہونے والے منافع پر مقامی آبادی کا کوئی اختیار نہیں۔ اسی طرح گندم سبسڈی کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ انہی مسائل کے خلاف جب عوام سڑکوں پر نکلے تو یہ احتجاج جلد ہی ایک منظم، پرامن اور وسیع عوامی تحریک میں ڈھل گیا۔

ریاستی طاقت کا استعمال

تحریک کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ریاستی اداروں نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں پولیس، رینجرز اور دیگر نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے۔ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور بعض مقامات پر براہِ راست فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ یہ اقدامات ریاستی جبر اور عدم برداشت کی واضح مثال تھے۔

گرفتاریاں اور قانونی دباؤ

تحریک کو کمزور کرنے کے لیے اس کی قیادت اور سرگرم کارکنوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان پر سنگین نوعیت کے مقدمات قائم کیے گئے۔ دہشت گردی اور بغاوت جیسے الزامات لگا کر احتجاج کو مجرمانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی، تاکہ عوام میں خوف پیدا ہو اور تحریک کی رفتار کو روکا جا سکے۔

پروپیگنڈا اور بیانیے کی جنگ

ریاستی بیانیے کے ذریعے اس عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔ مظاہرین کو بھارت نواز، غیر ملکی ایجنٹ یا ریاست دشمن قرار دے کر عوامی مطالبات کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد طاقت کے استعمال کو “قومی سلامتی” کے نام پر جائز ثابت کرنا تھا۔

مواصلاتی بندش اور میڈیا کنٹرول

احتجاج کے دوران کئی علاقوں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند کر دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد مظاہرین کے درمیان رابطہ توڑنا اور زمینی حقائق کو ملکی اور عالمی سطح پر پہنچنے سے روکنا تھا۔ موجودہ دور میں اطلاعات کی بندش دراصل سچ کو دبانے کا ایک مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔

تحریک کے اثرات اور مستقبل

ریاستی جبر کے باوجود یہ تحریک ایک اہم حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے آزاد کشمیر کے عوام اب اپنے حقوق سے باخبر ہیں اور خاموشی سے محرومی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اگرچہ وقتی طور پر طاقت کے ذریعے کسی تحریک کو دبایا جا سکتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شعور کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آزاد جموں و کشمیر کی عوامی تحریک نے ریاستی نظام کے کئی تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت، گرفتاریوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پائیدار حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جائے، سیاسی مکالمہ کیا جائے اور خطے کے عوام کو ان کے جائز معاشی اور سیاسی حقوق دیے جائیں۔

٭٭٭

Share this content: