اسلام آباد کے تھانہ آئی نائن پولیس کا نجی عقوبت خانے میں زیر تفتیش ملزمان کو قید رکھنے اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس گردی کا نشانہ بننے والے 17 سالہ نوجوان عبداللہ کی بیوہ والدہ سعیدہ رانی کا کہنا ہے کہ آئی نائن تھانے میں تعینات اے ایس آئی اعجاز نے میرے بیٹے عبداللہ پر پانچ جھوٹے مقدمات درج کئے جن میں چار مقدمات ڈکیتی اور ایک ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ شامل تھا۔ تمام پرچے جھوٹے اور من گھڑت تھے۔
انہو ں نے کہا کہ بیٹے کی رہائی کے لئے مجھ سے دو لاکھ روپے رشوت بھی لی گئی جو میں نے پڑوسیوں سے ادھار رقم لے کر پولیس کو دئیے تھے۔ پھر پولیس نے مجھے اپنے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے کا کہا تو میں نے پولیس آفیسر کو شٹ اپ کال دی۔ یوں وہ ہمارا جانی دشمن بن گیا اور پھر اس نے وہ کچھ کیا جو اس سے بن سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کے خلاف پانچ جھوٹے مقدمات درج کئے گئے۔ تاہم جب بچے کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے نہ صرف چار مقدمات خارج کرنے کا حکم دیا بلکہ پولیس پر برہمی کا بھی اظہار کیا اور ناجائز اسلحہ کیس دفعہ 13/20/65 میں میرے بیٹے کو ضمانت پر رہا کر دیا ۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ جب میرا بیٹا پولیس چنگل سے آزاد ہوا تو میرے پوچھنے پر میرے بیٹے عبداللہ نے بتایاکہ پولیس آفیسر اسے نجی ٹارچر سیل میں لے جاکر تشدد کرتا تھا۔
بیوہ خاتون سعیدہ رانی کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے عبداللہ کے مطابق اسے تھانہ آئی نائن سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع گتے کے گودام اور تیل کی ایجنسی میں لے جایا جاتا تھا۔ جہاں چند مزید ملزمان بھی قید تھے جنہیں چارپائی کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ اس عقوبت خانے میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
Share this content:


