پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سبکدوش ہونے والے وزیرِ اعظم، عہدے سے ہٹائے جانے کے دو ماہ سے زائد عرصے بعد بھی اسلام آباد میں واقع کشمیر ہاؤس کے آٹھ کمروں پر قابض ہیں، جس سے سرکاری املاک کے استعمال اور سیاسی اشرافیہ کے لیے مراعات میں مسلسل اضافے پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
17 نومبر کو اُس وقت کے وزیرِ اعظم کو اُن کے اتحادی، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کی حمایت ایک اور اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کی۔ اس کے نتیجے میں اتحادی حکومت ختم ہو گئی۔ بعد ازاں پی پی پی نے مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے نئی حکومت قائم کی، اور فیصل ممتاز راٹھور نے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالا۔
اگرچہ سابق وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں کشمیر ہاؤس میں واقع وزیرِ اعظم ہاؤس خالی کر دیا، تاہم وہ کشمیر ہائوس میں آٹھ کمروں پر بدستور قابض ہیں۔ ان میں سے چار کمرے باضابطہ طور پر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کے لیے مختص ہیں۔
اسپیکر کی حیثیت سے انہوں نے کشمیر ہاؤس کے اندر اسپیکر کا ایک علیحدہ چیمبر قائم کیا تھا۔ کئی دہائیوں سے وزیرِ اعظم ہاؤس، صدر ہاؤس، چیف سیکریٹری ہاؤس اور انسپکٹر جنرل ہاؤس ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل نے مظفرآباد کی بطور آئینی دارالحکومت حیثیت کو کمزور کیا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم موجودہ اسپیکر کی رضامندی سے اسپیکر کے لیے مختص کمروں پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مظفرآباد میں واقع سرکاری اسپیکر ہاؤس پر بھی قابض ہیں، جو اسپیکر اور وزیرِ اعظم دونوں کے عہدوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود خالی نہیں کیا گیا۔
کشمیر ہاؤس پر مسلسل قبضے کو قانون سبکدوش ہوںے والی کولیشن حکومت نے قانون ساز اسمبلی کے ذریعے ممکن بنایا۔ 30 نومبر 2023 کو اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس نے سابق وزرائے اعظم کو عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کشمیر ہاؤس پر قابض رہنے کی راہ ہموار کی۔ اس قانون کی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے حمایت کی اور اس کے ذریعے عہدے کے بعد حاصل ہونے والی مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
نئے قانون کے تحت سابق وزرائے اعظم کو 3000 سی سی تک انجن کی حامل سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ اس سے قبل یہ حد 1600 سے 1800 سی سی تھی۔ ان کی ذاتی سیکیورٹی ایک پولیس اہلکار سے بڑھا کر پانچ کر دی گئی۔ انہیں پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی بھی سرکاری گیسٹ ہاؤس، ریسٹ ہاوس یا سرکٹ ہاؤس کے مفت استعمال کی اجازت بھی دی گئی — جسے وسیع پیمانے پر اس بات کی اجازت سمجھا جا رہا ہے کہ سابق وزرائے اعظم جب چاہیں سرکاری رہائش گاہوں پر قابض ہو سکتے ہیں۔
قانون سازی کے ذریعے انتظامی سہولتوں میں بھی اضافہ کیا گیا، جس کے تحت گریڈ 11 کے اسسٹنٹ کی جگہ گریڈ 16 کا اسسٹنٹ فراہم کیا گیا۔ سابق وزرائے اعظم کو ماہانہ 400 لیٹر پٹرول کوٹہ اور 50 ہزار روپے ماہانہ ہاؤس رینٹ برقرار رکھا گیا۔
موجودہ پی پی پی حکومت، اہم اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن)، اور دیگر سابق وزرائے اعظم اس تنازعے پر بڑی حد تک خاموش ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آج اقتدار یا اپوزیشن میں موجود اراکین اسمبلی نے ہی اس قانون کو منظور کروایا جب وہ کولیشن حکومت کا حصہ تھے۔ ناقدین کے مطابق مراعات اور سرکاری عمارتوں پر قبضے جیسے معاملات میں سیاسی اختلافات اکثر ختم ہو جاتے ہیں۔
کشمیر ہاؤس میں متعدد کمروں پر قبضے کے علاوہ، سابق وزیرِ اعظم 2800 سی سی کی ٹویوٹا فورچونر استعمال کر رہے ہیں اور انہیں اضافی سیکیورٹی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ 30 نومبر 2023 کو منظور کیے گئے قانون — جسے ناقدین نے ’’اشرافیہ کا قانون‘‘ قرار دیا ہے — کے تحت سابق وزرائے اعظم پانچ پولیس اہلکاروں کے حق دار ہیں۔ اس قانونی حق کے علاوہ، انہوں نے ’’سیکیورٹی خدشات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید چار کمانڈوز بھی حاصل کیے، جسے ناقدین حقیقی خطرات کے بجائے مزید مراعات حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ریاستی وسائل کے غلط استعمال پر خدشات صرف اسی معاملے تک محدود نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سابق کولیشن حکومت کے کئی سابق وزراء، مشیران اور خصوصی معاونین نے اپنی سرکاری گاڑیاں واپس نہیں کیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض موجودہ وزراء قواعد کے برخلاف دو سے زیادہ سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، اور بعض افسران بھی بیک وقت دو سے زائد سرکاری گاڑیاں چلا رہے ہیں۔
ناقدین ان حالات کا موازنہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار صورتِ حال سے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، جہاں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام گولیوں، بموں اور مسلسل جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی اشرافیہ نے پرتعیش گاڑیوں، مسلح حفاظتی دستوں اور محفوظ رہائش گاہوں کے ذریعے اپنے لیے آسائشیں یقینی بنا لی ہیں۔
کچھ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مصائب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اشرافیہ ’’آبِ حیات‘‘ کی مانند ہے۔ یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران طبقے کے اقتدار اور مراعات کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ وادی کشمیر میں قبریں مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
ذوالفقار علی، بی بی سی کے سابق نامہ نگار رہے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


