پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان

پاکستان تحریکِ انصاف ( پی ٹی آئی) نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر دیا گیا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد وہاں موجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اور کارکنان واپس روانہ ہو گئے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو احتجاج، ہمارا جو دھرنا ہے، اس کو ہم اب سپریم کورٹ کی جانب لے کر جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ جا کر چیف جسٹس کو ایک یاداشت پیش کریں گے اور اس یادداشت کی تائید کے لیے ہمارے تمام پارلیمنٹیرین بھی وہاں موجود رہیں گے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے ہمیں وہ ریلیف ملے گا جو بطور انسان عمران خان کا حق ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان کی اس ناحق قید کے خلاف پر روز نظر آئیں گے۔

’ہمیں کسی چیز کی جلدی نہیں، ہم تحمل سے وہ کام کریں گے جو ہمیں فتح کی جانب لے کر جائے گا۔‘

اس سے قبل گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ جب تک پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اڈیالہ جیل میں ملاقات کر کے باہر نہیں آتے، اڈیالہ جیل پر دھرنا جاری رہے گا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ عمران خان کے دو سے تین ذاتی معالجین ملاقات کے لیے جیل آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر عظمیٰ اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ انھوں نے اور سلمان اکرم راجہ نے ڈاکٹروں کو بلایا ہے تاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق ملاقات ممکن ہو سکے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کی جانب سے عمران خان کی آنکھوں کے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں علاج کی تصدیق کے بعد تحریکِ انصاف کی جانب سے ان کے ذاتی معالج کو رسائی دینے کا مطالبہ دہرایا گیا تھا۔

چند روز قبل تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا ہے۔

Share this content: