یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا

یورپی یونین نے ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ تہران میں ملک گیر مظاہروں کے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فیصلے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا۔

کایا کالس نے کہا کہ ’کوئی بھی حکومت جو اپنے ہی ہزاروں شہریوں کو قتل کرتی ہے، دراصل اپنے زوال کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے۔‘

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب 27 رکنی یورپی بلاک نے 15 ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کیں، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر بھی شامل ہیں۔ یہ پابندیاں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے تناظر میں لگائی گئیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں اب تک 6 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران میں مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں یورپی یونین نے ملک کے کئی اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یورپ کی کونسل نے اعلان کیا کہ ان پابندیوں کا ہدف وزیر داخلہ اسکندر مومننی، اٹارنی جنرل محمد موحیدی آزاد اور تہران کی انقلابی عدالت کی برانچ 26 کے جج ایمان افشاری ہیں۔

کونسل آف یورپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تینوں ’پرامن احتجاج کے پرتشدد جبر اور سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی من مانی حراست میں ملوث تھے۔‘

Share this content: