پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقے باغ میں کمیون لائبریری کے زیر اہتمام "عوامی حقوق تحریک اور بیس کیمپ کا بیانیہ” کے عنوان سے ایک اسٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا۔
مذکورہ موضوع پر ممبران اسٹڈی سرکل نے تفصیلی گفتگو کی ۔
سرکل میں کہا گیا کہ عوامی حقوق تحریک گزشتہ چار سال سے منظم عوامی بنیادوں پر کھڑی ہے، تحریکی پیش رفت میں تحریکی مطالبات وقت گزرنے کیساتھ ایڈوانس ہوتے گئے اور عوام کو حاصلات بھی ملیں۔ پُرامن عوامی جدوجہد کی منظم طاقت کے سامنے بے بس ہو کر حکمران اشرافیہ نے گھٹنے ٹیکے مختلف مواقعوں پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے کیے، ان معاہدوں پر حکمرانوں کی طرف سے مسلسل بد عہدیوں کی وجہ سے عوامی تحریک اس نتیجے پر پہنچی کہ عوامی مسائل کا پائیدار اور دیرپا حل اسی صورت ممکن ہے کہ عوام کو حق حکمرانی اور حق ملکیت حاصل ہو۔ حق حکمرانی اور حق ملکیت کو لیکر مسلسل کانفرنسیز کا انعقاد کیا گیا۔
شرکا نے کہاکہ حکمرانوں کی آخری بد عہدی کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکمرانوں کی طرف سے لیا جانے والا وقت پورا ہونے کے بعد ضلعی اجلاسوں کے ذریعے عوامی رائے لیکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا اعلان کیا جو عوامی تحریک کا جمہوری حسن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مشاوراتی اجلاسوں کے بعد کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے بعد جو بیانیہ دیا گیا وہ تشویش ناک ہے،ایک تو بیس کیمپ کی تعریف دیکھیں تو”کسی مہم جوئی یا فوجی کاروائی کے لیے عارضی پڑاو جہاں سے تیاری کر کے آگے بڑھا جاتا ہے کو ،، بیس کیمپ ،، کہتے ہیں ۔
اسٹڈی سرکل میں شرکا نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ 1947 میں ریاست کے اس سرحدی علاقے کو ،، بیس کیمپ ،، کا لقب یہاں کی فوجی مہم جوئی کے لیے دیا گیا تھا جو کہ ریاستی بیانیہ ہے ، اس بیس کیمپ سے ہو کر سری نگر کو آزاد کروانے کا بیانیہ 78 سال سے ریاستی بیانیہ ہے اسی بیانیے پر 24 اکتوبر 1947 کی مظفرآباد حکومت قائم کی گئی ہے، یہی بیانیہ اور حکومت یہاں کے عوام کے استحصال کا موجب اور سبب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق تحریک نے اس ریاستی بیانیے کو مسترد کیا اور سری نگر کی آزادی کو مظفرآباد کی آزادی کیساتھ مشروط کرتے ہوئے اپنے بنیادی جمہوری حقوق کی مانگ کی اور وہ مانگ حق حکمرانی اور حق ملکیت کے حصول کے بیانیے پر کھڑی ہے ۔
شرکائے سرکل نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے آخری اجلاس کا اعلامیہ عوام کی توجہ اپنے بنیادی مسائل اور جمہوری حقوق سے ہٹا کر ایک بار پھر سری نگر کی طرف مبذول کرنے کے مترادف ہے ۔ایک تشویش ناک سوال ہے کہ بیس کیمپ کی بحالی؟ 24 اکتوبر کا ڈیکلریشن، یاسین ملک کی رہائی تینوں نکات ایک ہی وقت میں ایسے سامنے آ گئے جو ریاستی بیانیہ ہے؟ یہ کہاں سے اور کیسے ایجنڈئے پر آیا ؟
انہوں نے کہا کہ مشاوراتی ضلعی اجلاسوں میں کسی بھی اجلاس میں اکثریتی رائے ایسی نہیں ہے اور ضلعی اجلاسوں کے اعلامیوں میں کسی بھی اجلاس کے اعلامیے میں اس کا ذکر نہیں ہوا ۔کچھ ہی دن قبل کمیٹی کے اکثریتی ممبران تحریک اور کمیٹی کو غیر سیاسی کہہ رہے تھے تو سوال یہ بھی بنتا ہے کہ یاسین ملک کی رہائی غیر سیاسی مطالبہ ہے اور تشویش یہ ہے کہ وہ بھی مشعال ملک کے موقف پر نہ کہ لبریشن فرنٹ کے موقف پر، مشعال ملک کون ہے یہ بھی واضح ہے۔
سرکل میں موجود شرکا نے کہا کہ ضلعی مشاوراتی اجلاسوں میں اجتماعی طور پر شدید رائے سہراب برکت کی رہائی کی کمپئین چلانے کی تھی جو پس پشت چلی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یاسین ملک سمیت کسی بھی سیاسی ورکر کی رہائی کے مطالبے پر ہمیں اعتراض نہیں ہے لیکن اس کے طریقہ کار اور ایسے بیانیے پر دوبارہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر ریاستی بیانیہ ہے اور یہ بیانیہ عوامی تحریک کو ڈی ٹریک کرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ حق حکمرانی کے سوال پر عوامی ایکشن کمیٹیوں کو فوری طور پر نچلی سطح پر مکالمے اور مباحث کا آغاز کرنا ہو گا ۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اسٹڈی سرکل کی وساطت سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ اس بیانیے پر دوبارہ سے غور کرنے کے بعد اس سے دستبردار ہونے کا اعلان کرئے۔
Share this content:


