بلوچستان میں کشیدگی تاحال جاری ہے ۔مسلح تنظیم نے ایک 60 سالہ بزرگ خاتون اور ایک بزرگ مرد سمیت 4 فدائین کی تصاویر جاری کردی ہیں جن میں 3 خواتین ہیں ۔
بلوچستان سے اطلاعات ہیں کہ حالات تاحال کشیدہ ہیں اور آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے آپریشن ہیروف کے تحت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہیں۔جبکہ حکومت بلوچستان اور سیکورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف منظم آپریشن کرکے سب کلیئر کردیا گیاہے۔
دوسری جانب مسلح تنظیم بی ایل اے نے اپنے آفیشل چینل پر گوادر، پسنی اور نوشکی میں پاکستانی فورسز کے خلاف حملوں میں شامل خواتین سمیت 4 جنگجوئوں کی تصاویر اور بیانات جاری کیے ہیں، جن میں 3 خواتین میں ایک ساٹھ سالہ بزرگ خاتون اور ایک بزرگ مرد بھی شامل ہیں۔
پہلی خاتون کی شناخت حوا بلوچ عرف دروشم کے نام سے کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے تنظیم نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو پیغام میں مذکورہ خاتون کو ایک بیان دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں وہ بلوچ خواتین کو مسلح جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کرتی ہیں۔
تنظیم نے آپریشن کے دوسرے مرحلے سے منسوب ایک اورفدائی ناکو فضل بلوچ کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔ ویڈیو میں وہ ایک گاڑی میں بیٹھے نظر آتے ہیں اور اپنے بیان میں بلوچ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے تنظیم کے لیے حمایت کی اپیل کرتے ہیں۔
مزید برآں، بی ایل اے نے نوشکی میں کارروائی میں شامل تیسری خاتون کی شناخت 23 سالہ عاصفہ مینگل کے طور پر ظاہر کی ہے۔ تنظیم کے دعوے کے مطابق وہ اکتوبر 2023 میں اس کے ذیلی ونگ میں شامل ہوئیں اور بعد ازاں خودکش حملے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ عاصفہ مینگل نے 31 جنوری 2026 کو نوشکی میں ایک حساس تنصیب کو نشانہ بنایا۔
اسی طرح تنظیم نے چوتھی فدائی کی شناخت 60 سالہ حاتم ناز سمالانی (عرف گل بی بی) کے نام سے کی ہے، جو بولان کے گھربوک سے نور محمد کی بیٹی بتائی جارہی ہے۔
بی ایل اے کے مطابق اس نے 2015 میں شمولیت اختیار کی اور جنوری 2023 میں فدائی کا فیصلہ کیا۔
Share this content:


