بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟

نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو سے لیا گیا ہے جسے سارہ عتیق نے تحریر کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت متعدد شہروں پر علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے ہونے والے حملوں سے قبل اسی تنظیم کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔

اس ویڈیو میں ایک غیر آباد نامعلوم مقام پر تین موٹر سائیکلوں پر چھ مسلح افراد سوار نظر آتے ہیں۔ ان چھ افراد میں سے صرف ایک شخص کا چہرہ نظر آتا ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ شخص بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب تھے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان حملوں میں بشیر زیب نے خود بھی حصہ لیا۔

بی ایل اے نے واضح نہیں کیا کہ یہ ویڈیو کس مقام پر بنائی گئی تاہم وزیر علی بلوچستان سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو افغانستان میں بنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سنیچر کو مسلح افراد نے کوئٹہ، مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت بعض دیگر علاقوں میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ان کی جانب سے 145 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

بی ایل اے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ سے بلوچستان میں متحرک ہے لیکن حالیہ برسوں میں عسکریت پسند تنظیم اور اس کے ذیلی گروہ مجید بریگیڈ کے حملوں میں وسعت اور شدت نظر آئی ہے۔ بی ایل اے پر پاکستان اور امریکہ پابندی عائد کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے سے لے کر اب تک بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کے مقدمات میں بشیر زیب حکومتِ پاکستان کو مطلوب ہیں۔

ان میں 2020 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی منصوبہ بندی، کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر خاتون خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز کے قافلے پر حملے کی منصوبہ بندی شامل ہیں، جبکہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز کے قافلے پر حملے کے مقدمے میں عدالت انھیں مفرور قرار دے چکی ہے۔

لیکن ایک زمانہ تھا جب بشیر زیب کوئٹہ کی سڑکوں پر طلبہ سیاست میں سرگرم نظر آتے تھے۔ ہم نے صحافیوں، سابق و حاضر سروس سکیورٹی اہلکاروں سے بات کی اور بشیر زیب کی اپنی تحریروں اور بطور چیئرمین بی ایس او آزاد دیے گئے انٹرویوز سے بھی معلومات حاصل کی اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ بشیر زیب بلوچ کون ہیں اور وہ اس تنظیم کا حصہ کیسے بنے۔

صحافی کیا بلوچ کے مطابق بشیر زیب کا تعلق بلوچستان کے علاقے نوشکی کے احمدوال کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ محمد حسنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بشیر زیب کے والد پیشے کے لحاظ سے محکمہ صحت سے وابستہ رہے ہیں۔ بشیر زیب کی ابتدائی تعلیم نوشکی سے جبکہ ہائر سیکنڈری تعلیم کوئٹہ ڈگری کالج سریاب روڈ سے مکمل ہوئی۔

کیا بلوچ کا کہنا ہے کہ بشیر زیب نے پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا اور بعد میں بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ ادب میں ماسٹرز میں داخلہ لیا، تاہم دورانِ طالب علمی ان کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اس پابندی کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ مختلف طلبہ تنظیموں، بالخصوص بی ایس او آزاد اور بعض پشتون قوم پرست طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپیں بتائی جاتی ہیں۔

بشیر زیب کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ سے ہوا، جہاں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او آزاد) میں 2006 سے 2012 تک بشیر زیب کو چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔

طلبہ تنظیم بی ایس او کے ویسے تو متعدد دھڑے ہیں لیکن بی ایس او آزاد کی بنیاد 2002 میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے رکھی تھی جو اب بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ہیں اور حکومت پاکستان کو سکیورٹی اہلکاروں پر متعدد حملوں اور ریاست مخالف کاروائیاں کرنے کے الزام میں مطلوب ہیں۔

پاکستانی حکومت کا الزام ہے کہ بی ایس او آزاد بلوچ عسکریت پسند تنظیموں جیساکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف میں نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور انھیں عسکریت پسندی کی طرف راغب کرتی ہے۔ مارچ 2013 میں حکومت پاکستان نے بی ایس او آزاد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اگرچہ بشیر زیب کے دور میں بی ایس او آزاد پر پابندی عائد نہیں تھی، تاہم صحافی کیا بلوچ کے مطابق اس دور میں بشیر زیب کو کوئٹہ شہر میں نوجوانوں میں پاکستان مخالف لٹریچر تقسیم کرتے دیکھا جاتا تھا اور اکثر احتجاجی ریلیوں اور جلسوں میں ان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی بلوچستان سے متعلق پالیسیوں پر سخت تنقید کی جاتی تھی۔

بشیر زیب کی تحریروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں ریاست پاکستان کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اپنی ایک تحریر میں بشیر زیب نے لکھا تھا کہ بطور بی ایس او آزاد کے رکن انھوں نے بھرپور کوشش کی کہ تنظیم پر بی این پی مینگل جیسی جماعتوں کا کوئی اثر و رسوخ نہ ہو۔

صحافی کیّا بلوچ کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بشیر زیب کی گرفتاری کے لیے یونیورسٹی پر کئی بار چھاپے بھی مارے گئے جو ناکام رہے۔

حمل حیدر بلوچ بشیر زیب کے طلبہ سیاست کے دور میں ساتھی تھے۔ حمل حیدر کے مطابق بشیر زیب نے ان کے سامنے خود ہتھیار اٹھانے اور ریاست کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کا ذکر نہیں کیا۔

تاہم 2014 شائع ہونے والی بشیر زیب کی اپنی تحریر ’آزادی کی شاہراہ پر مختصر سفر:کچھ تضاد میرے سامنے‘ کے مطابق وہ ڈاکٹر اللہ نذر اور ان کے نظریے سے متاثر ہو کر بندوق کے ذریعے لڑنا چاہتے تھے۔

بشیر زیب کی تحریر کے مطابق ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ یعنی بی ایل ایف کا حصہ بننے کی خواہش پر خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر وہ بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بن گئے۔

اسی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ بی ایس او آزاد کے چئیرمین ہوتے ہوئے بھی بی ایل اے کے انتظامی معاملات میں بشیر زیب کا ہاتھ تھا۔

یاد رہے کہ بی ایس او آزاد کے منشور کے مطابق ’اگرچہ تنظیم بلوچستان کی آزادی اور مسلح جدوجہد کی حامی ہے لیکن جن افراد نے اس کے لیے ہتھیار اٹھایا ان کا تعلق بی ایس او آزاد سے نہیں رہے گا۔‘

بشیر زیب نے 2018 میں طلبہ سیاست کو مکمل خیر باد کہہ دیا اور بی ایل اے میں شمولیت اختیار کر لی۔

یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی۔ سنہ 2006 میں حکومتِ پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا اور حکام کی جانب سے نواب خیر بخش مری کے بیٹے نوابزادہ بالاچ مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

نومبر 2007 میں بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر آئی اور کالعدم بی ایل اے کی جانب سے کہا گیا کہ وہ افغانستان کی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔

بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے برطانیہ میں مقیم ان کے بھائی نوابزادہ حیربیار مری کو بی ایل اے کا سربراہ قرار دیا جانے لگا، تاہم نوابزادہ حیربیار کی جانب سے کسی مسلح گروہ کی سربراہی کے دعوؤں کو سختی کے ساتھ مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے کی قیادت میں جو نام ابھر کر سامنے آیا وہ اسلم بلوچ کا تھا۔ ان کا شمار تنظیم کے مرکزی کمانڈروں میں کیا جانے لگا۔

بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کے ادارے سی ٹی ڈی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بشیر زیب بی ایل اے کمانڈر اور مجید بریگیڈ کے بانی اسلم بلوچ عرف استاد اسلم کا قریبی ساتھی تھا، تاہم دسمبر 2017 میں بشیر زیب اور اسلم بلوچ کو تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی پر بی ایل اے سے نکال دیا گیا تھا۔

تنظیم کی جانب سے اس وقت جاری کیے جانے والے بیان میں اسلم بلوچ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ لیڈر شپ کی منظوری کے بغیر علاج کروانے کے لیے انڈیا گئے جبکہ بشیر زیب نے تنظیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔

اس پیش رفت کے بعد اسلم بلوچ اور بشیر زیب نے ایک نئی تنظیم بنائی جس کا نام بھی بی ایل اے رکھا گیا اور اس میں شامل ہونے والے بہت سے افراد کا تعلق بھی پرانی تنظیم سے ہی تھا۔

اسلم بلوچ عرف اچھو اس نئی تنظیم کے کمانڈر مقرر ہوئے لیکن اگلے ہی سال 2018 میں اسلم بلوچ کی مبینہ طور پر افغانستان میں ایک خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد تنظیم کی سربراہی بشیر زیب کے پاس آئی۔

سابق ڈی آئی جی بلوچستان عبدالرزاق کے مطابق بشیر زیب جیسے شخص کا بی ایل اے کی قیادت تک پہنچنا بھی تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کا اس گروپ کی طرف راغب ہونے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل اے کی جانب سے کیے جانے والے خودکش حملوں میں تعلیم یافتہ نوجوان مرد اور خواتین کی جانب سے حصہ لینے کا دعوی سامنے آتا رہا ہے۔

بشیر زیب کی جانب سے بی ایل اے کی قیادت سنبھالنے کے بعد نہ صرف گروپ کی ریاست مخالف کارروائیوں میں شدت آئی بلکہ تنظیم اور اس طریقہ کار میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملی۔

سابق ڈی آئی جی بلوچستان عبدالرزاق کے مطابق بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے الحاق کے ماسٹر مائنڈ بھی بشیر زیب تھے۔

حمل حیدر کے مطابق بشیر زیب طلبہ سیاست کے دور سے ہی مسلح تنظیموں کے اتحاد حق میں تھے۔

نومبر 2018 میں بلوچستان میں سرگرم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی)، بی ایل اے جیسی تنظیموں نے اتحاد کا اعلان کیا اور اسے ’بلوچ راجی آجوئی سنگر‘ یا براس کا نام دیا گیا۔ کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولوشنری آرمی ایس آر اے بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ بی ایل اے کا تنظیمی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوا اور بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم میں مختلف ونگز ہیں، جن میں خود کش حملوں کے لیے علیحدہ مجید بریگیڈ ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء کی کاروائیاں کرنے والا سکواڈ، انٹیلیجنس ونگ اور میڈیا ونگ شامل ہیں۔

تاہم ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزار احمد گورایا کے مطابق بی ایل اے کہ یہ ونگز اتنے منظم نہیں اور اس بارے میں گروپ کا پروپیگنڈہ زیادہ ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کی رائے میں بشیر زیب نے بلوچ تحریک کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کی رائے میں بشیر زیب کے جانب سے خودکش حملوں میں خواتین کا استعمال، سفارت خانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے جیسی حکمت عملی نے بلوچ تحریک کو دہشتگردی میں تبدیل کر دیا۔

محقق اور تجزیہ کار ملک سراج اکبر کے مطابق ’بی ایل اے کی قیادت ایک واضح اخلاقی حد قائم کر سکتی تھی اور ریاست کے خلاف اپنی لڑائی میں خواتین کو شامل کرنے سے گریز کر سکتی تھی لیکن اس کے منفی اخلاقی اثرات جاننے کے باوجود وہ خواتین خودکش بمباروں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں، صرف اس لیے کیونکہ ان حملوں کو میڈیا میں زیادہ کوریج ملتی ہے۔‘

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزار احمد گورایا کا کہنا ہے کہ بشیر زیب کے خاندان میں سے کئی افراد سرکاری نوکری بھی کرتے رہے ہیں لیکن وہ دیگر پڑھے لکھے نوجوانوں کی زندگیاں خودکش حملوں میں ضائع کر رہے ہیں۔

انسداد دہشت گردی امور کے ماہر اور قائد اعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا تھا کہ ’جیسے جیسے بی ایل اے کے حملوں میں بربریت آتی گئی ویسے ویسے بلوچستان سے باہر اس گروپ کی سپورٹ میں کمی آتی گئی اور اس نے سب سے زیادہ نقصان بلوچ تحریک کو پہنچایا کیونکہ عالمی رائے عامہ خودکش حملوں سے متعلق سازگار نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حملوں کی شدت آنے کے وجہ سے اب میڈیا کوریج زیادہ ملتی ہے لیکن بلوچستان سے باہر اس تحریک کے لیے عوامی رائے میں کمی بلوچستان میں فوجی آپریشن کے حق میں رائے ہموار کر گا جس کا فائدہ سکیورٹی اداروں کو ہوگا۔

Share this content: