ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انسانی حقوق کے وکلاء ایمان اور ہادی کی رہائی کا مطالبہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک فوری کارروائی (Urgent Action) جاری کرتے ہوئے پاکستان میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور سماجی کارکن ہادی علی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر “مخالفِ ریاست” قرار دیے جانے کے الزامات کے تحت 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دونوں کو 23 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے انہیں اپنے اہل خانہ اور قانونی وکلاء تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو محض انسانی حقوق کے دفاع اور اظہارِ رائے کی آزادی استعمال کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں افراد کے خلاف عائد الزامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور انہیں بغیر کسی شرط کے رہا کیا جائے، جبکہ پاکستان میں انسانی حقوق کے محافظوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

تنظیم نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کرے اور انسانی حقوق کے وکلاء کے خلاف جاری کارروائیوں کا نوٹس لے۔

Share this content: