بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، پاکستانی وزیر دفاع

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کا 40 فیصد سے زیادہ رقبہ بلوچستان پر محیط ہے، جہاں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک شخص آباد ہے اور اسے کنٹرول کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس صوبے میں ہماری فوج پہلے سے موجود ہے مگر مزید بڑے پیمانے پر تعیناتیوں کی بھی ضرورت ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ حکومتوں نے بیوروکریسی سے مل کر وہاں وسائل کی درست تقسیم نہیں کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ باقی صوبوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ خواجہ آصف حکمران جماعت مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں جو ماضی میں تین بار حکومت میں رہی ہے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں قبائلی، جرائم پیشہ افراد اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے۔ انھوں نے کہ ان تنظیموں کو جرائم پیشہ لوگ تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ خطاب سپیکر ایاز صادق کی درخواست پر کیا، جنھوں نے انھیں بلوچستان کی صورتحال پر ایوان کو بریفنگ دینے کے لیے کہا تھا۔

خواجہ آصف نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی گذشتہ کئی دہائیوں میں بارہا ’متاثر‘ ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے تک امن قائم رہا اور ترقیاتی کام بھی کیے گئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے ابتدائی عشروں میں اس بدامنی کے ’اثرات کو ایک طرح کا سیاسی رنگ دیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کچھ شکایات بھی موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اس بات میں جائے بغیر کہ وہ درست تھیں یا غلط، کچھ شکایات میں قوم پرستی کا رنگ بھی شامل تھا۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ انڈیا کی حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں ’پراکسی‘ کے طور پر سرگرم ہیں اور افغان سرزمین بھی صوبے میں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کی قیادت افغانستان میں ہے اور انھیں وہاں سے مدد ملتی ہے۔‘

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ ’اس تحریک کے سیاسی عنصر کو حالیہ یا کچھ عرصہ پہلے سمگلنگ نے ہائی جیک کر لیا۔‘ انھوں نے کہا ’اربوں کھربوں روپے سمگلنگ، خاص طور پر تیل کی سمگلنگ سے ضائع ہو رہے تھے۔ یہ مجرمانہ مافیا اس تحریک کی حمایت کرنے لگا اور اب اس کی قیادت انھی عناصر کے ہاتھ میں ہے۔‘

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ افغانستان یا دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والی اشیا دوبارہ پاکستان واپس آ کر یہاں کی مارکیٹوں میں فروخت ہو رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت نے اس پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چمن بارڈر پر طویل احتجاج ہوا۔ اسی طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی جہاں یہ سہولت دستیاب تھی اور اس کا غلط استعمال ہو رہا تھا، احتجاج دیکھنے میں آیا۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ اس تحریک کے ارکان اسے قوم پرست تحریک کہتے ہیں، لیکن یہ مجرموں اور سمگلروں کی تحریک میں بدل گئی ہے اور وہی اس کی فنڈنگ کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ دہشت گردوں یا قومی تحریک کے ارکان سے مذاکرات کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں بھی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے گئے ہیں، حتیٰ کہ ان جماعتوں سے بھی جو پرتشدد ہو گئی تھیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ لوگ یومیہ تیل کی سمگلنگ سے چار ارب روپے کما رہے تھے، اور ’بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان سمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ گذشتہ دو روز کے دوران بلوچستان میں 177 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 16 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بلوچستان حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا، جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ انڈیا ملوث ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، یہ لاپتا افراد کا معاملہ ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، یہ لوگ ریاستی دفاتر پر حملے کرتے ہیں۔

Share this content: