مظفرآباد/کاشگل نیوز رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منشیات فروشی خطرناک حد تک عروج پر پہنچ چکی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود منشیات کی کھلم کھلا سپلائی جاری ہے۔
شہر کے عین وسط میں واقع ایک تھانے کے مرکزی گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پر منشیات کی ترسیل کا انکشاف ہوا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ تھانے کے ایک جانب مرکزی دروازہ جبکہ دوسری جانب ایک بین الاقوامی سکول کا گیٹ واقع ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں طلبہ کی آمد و رفت رہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق شہر کے تقریباً ہر گلی اور محلے میں چھوٹے چھوٹے منشیات فروش گینگ سرگرم ہیں جو چرس، آئیس اور شراب جیسی منشیات فروخت کر رہے ہیں۔ معروف منشیات فروشوں کے جیل جانے کے باوجود یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہو سکا، بلکہ جیل کے اندر سے موبائل فون کے ذریعے منشیات کی سپلائی جاری رہنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
بائیکا سروس کے آغاز کے بعد منشیات فروشوں نے اپنے طریقۂ واردات میں جدت لاتے ہوئے آن لائن آرڈر اور ہوم ڈیلیوری کا نظام بھی متعارف کرا دیا ہے، جس سے یہ غیر قانونی دھندا مزید منظم اور ناقابلِ گرفت بنتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پولیس کی محکمانہ کارکردگی فوٹو سیشنز، رسمی کارروائیوں اور روایتی بیانات تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی جاری ہے۔
یہ فوٹیج دو روز قبل رات کے وقت بنائی گئی، جبکہ میڈیا نمائندگان نے صرف ایک دن میں شہر کے 30 سے زائد مختلف مقامات سے منشیات کی خریداری کر کے اس نیٹ ورک کی وسعت کو بے نقاب کیا ہے۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ مظفرآباد جیسے شہر میں جہاں نہ تو منشیات کی کوئی فصل کاشت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فیکٹری یا کارخانہ موجود ہے، وہاں اتنی بڑی مقدار میں منشیات کی دستیابی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
یاد رہے کہ شہرِ اقتدار کے اندر چار تھانے اور ایک پولیس چوکی فعال ہیں، اس کے باوجود منشیات کی آزادانہ فروخت شہریوں، والدین اور سماجی حلقوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ منشیات کی سپلائی لائن، سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کی جائے، بصورت دیگر یہ ناسور پورے شہر کی نسلوں کو دیمک کی طرح چاٹتا رہے گا۔
Share this content:


