ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی موت: مقابلے کی دوڑ یا منظم قتل؟ ۔۔۔ الیاس کشمیری

ڈاکٹر فریحہ افراہیم کو مقابلے کی دوڑ میں قتل کر دیا گیا، ایسا سو فیصد یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن اس شک کی بنیاد پر تحقیقات کی جائیں تو مرحومہ کی موت کی وجوہات معلوم ہو سکتی ہیں۔

ایسے سماج میں جہاں پورا تعلیمی نظام مقابلے کی دوڑ پر کھڑا ہے وہاں نوآبادیاتی سماج کے پسماندہ گاؤں اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی اپنی محنت کے بل بوتے پر گزشتہ چار سال سے گولڈ میڈل لے رہی ہو ، مقابلے میں ہو سکتا ہے وہ کسی سرمایہ دار اور اثر و رسوخ رکھنے والے گھرانے کی لڑکی کو مات دے رہی تھی اور یہی وجہ اس کی موت اور قتل کا سبب بن گئی ہو۔

بقول افراہیم صاحب جب وہ لاہور جا رہے تھے تو انھوں نے راستے سے متعلقہ ادارے کی انتظامیہ سے گزارش کی کہ وہ لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کروائیں گے لیکن ان کے جانے سے پہلے ہی پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا، یہ عمل اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ مرحومہ حادثاتی موت نہیں مری بلکہ ان کا قتل ہوا ہے۔

ان حالات میں مرحومہ کی موت کو قتل سمجھ کر کیس ٹرائل ہونا چاہیے، ٹاپر کے مقابلے کی تین لڑکیوں کا باہیو ڈیٹا لیا جائے ان میں جو بھی کسی کرنل، جنرل، حکمران طبقے، بیوروکریسی یا یونیورسٹی انتظامیہ کے آفیسر کی اولاد میں سے ہوں ان کو گرفتار کرکے تحقیقات کی جاہیں ہم دعوے کیساتھ کہتے ہیں کہ یہ قتل سامنے آ جائے گا، بصورت دیگر تحقیقاتی کمیشنوں کا قیام قتل کو حادثے میں ہی بدلنے کا باعث بنے گا کیونکہ قاتل اور کمیشن ممبران ایک ہی طبقے کے لوگ ہوتے ہیں ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں۔

سول سوسائٹی کو واضح اور دو ٹوک مؤقف کیساتھ اس مطالبے کو لیکر آگے بڑھانا چاہیے کیونکہ ہماری بچیاں اب تعلیم حاصل کرتے ہوئے بھی محفوظ نہیں ہیں وہ مقابلے کی اس دوڑ میں آگے بڑھتی ہیں تو انھیں قتل تک کر دیا جاتا ہے، مستقبل تو ویسے بھی نوآبادیاتی اور مقبوضہ سماجوں میں محفوظ نہیں ہوتا لیکن اب زندگی بھی محفوظ نہیں ہے۔

ہمارے لوگوں کو فریحہ افراہیم کے قتل کو لیکر بہت سادہ مطالبے پر اجتماعی آواز بلند کرنا چاہیے کہ تین ٹاپر کے مقابلے کی لڑکیوں کا باہیو ڈیٹا پبلک کیا جائے اور عوام کی طرف سے نشاندھی پر گرفتاریاں عمل میں لائی جاہیں یہی واحد طریقہ ہے فریحہ افراہیم کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بصورت دیگر ہم لاشیں وصول کرتے رہیں گے اور خاموشی سے دفنا کر دعائیں کرتے رہیں گے۔

٭٭٭

Share this content: