اسلام آباد/کاشگل نیوز
کشمیری عوام کی آواز سمجھے جانے والے صحافی سہراب برکت کو حالیہ دنوں میں چوتھی ایف آئی آر کی بنیاد پر دوبارہ گرفتار کیا گیا، تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت نے اس مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق سہراب برکت پہلے ہی تین مقدمات میں ضمانت حاصل کر چکے تھے، جن میں ایک کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ضمانت دی تھی۔ تازہ گرفتاری کے بعد ان کے وکیل بیرسٹر سعد رسول نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ہی نوعیت کے الزامات پر بار بار مقدمات درج کرنا بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ قانونی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا۔
خاندانی ذرائع اور قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سہراب برکت نے پاکستان میں رہتے ہوئے کشمیر میں مبینہ ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کے دوران عوامی مؤقف سامنے رکھا۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی بیانیے سے ہٹ کر اظہارِ رائے کرنے والوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اور بار بار نئی ایف آئی آرز کا اندراج بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اوورسیز جموں و کشمیر کے عوام میں بھی اس کیس پر تشویش پائی جا رہی ہے اور امکان ہے کہ بیرون ملک مقیم کشمیری اس حوالے سے احتجاج یا مذمتی بیانات جاری کریں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سہراب برکت کی گرفتاری اور مقدمات پر ردِعمل دیتے ہوئے شفاف قانونی عمل اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ تاحال حکومتی یا متعلقہ اداروں کی جانب سے اس تازہ گرفتاری پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔
Share this content:


