دیامر/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے باعث گلگت بلتستان کے قیمتی تاریخی ورثے کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈیم کی تکمیل کے بعد تقریباً 38 ہزار قدیم راک آرٹس زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔
رائیکوٹ سے شتیال تک پھیلے علاقے میں اندازاً 57 ہزار سے زائد راک آرٹس موجود ہیں، جو خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، مذہبی روایات اور تاریخی سفر کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ نقوش بدھ مت دور اور قدیم شاہراہِ ریشم کے ادوار کی اہم نشانیاں ہیں، جنہیں گلگت بلتستان کی تاریخی شناخت سمجھا جاتا ہے۔
مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی سڑکوں کی تعمیر اور پہاڑوں سے پتھر نکالنے کے عمل کے دوران تقریباً 5 ہزار تاریخی نقوش ضائع ہو چکے ہیں۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو باقی ماندہ آثار بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔
عوام اور ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ راک آرٹس کی فوری ڈیجیٹل دستاویز بندی کی جائے، اہم نقوش کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور علاقے کو باقاعدہ قومی ثقافتی ورثہ قرار دے کر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آج اس تاریخی سرمایہ کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں اپنی تاریخ اور شناخت کے ایک اہم باب سے محروم ہو جائیں گی۔
Share this content:


