پاکستان نے فضائی حملوں سے ثابت کیا کہ وہ امن نہیں چاہتا، افغان طالبان

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے گذشتہ دنوں پاکستان کے تین فوجی رہا کیے تھے جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ہم امن چاہتے ہیں تاہم پاکستان نے حالیہ فضائی حملوں کے ذریعے یہ ردعمل دیا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتے۔

بی بی سی پشتو ریڈیو کو پیر کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’اب ہم بدلہ لیں گے، اور اگر اس کے بعد بھی پاکستان نے کوئی ایکشن کیا تو (وہ) اس کا ری ایکشن بھی دیکھیں گے۔‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ کئی پاکستانی طالبان افغانستان میں بھی لڑے ہیں اور ان کے آپ لوگوں کے ساتھ روابط ہیں؟ اس پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ’ہماری شناخت ایک ہے، زبان ایک ہے، ہم ان پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتے۔‘

جب اُن سے پاکستان کے اس دعوے سے متعلق پوچھا گیا کہ پاکستانی حکام اور ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو اس پر طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ وہ لوگ کہتے ہیں جو طالبان کی سیٹ اپ سے بے خبر ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اُن (ٹی ٹی پی) کی علیحدہ تنظیم اور شناخت ہے۔‘

ترجمان کے مطابق ’ٹی ٹی پی مشرف دور میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے 2003 میں وجود میں آئی تھی۔ ان کی لڑائی جھگڑوں کی اپنی ایک تاریخ ہے، ان کے بڑے رہنما رہ چکے ہیں، جیسا کہ حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود۔‘ ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان پر اس نوعیت کے حملے کیے ہیں اور ہم نے ان کا بھرپور جواب دیا اور اس بار بھی ہم اپنی قوت اور توانائی کے مطابق جواب دیں گے۔‘

افغان طالبان کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں کیے جانے والے ’ایسے حملوں کی کڑی پاکستانی فوج کے ایک مخصوص طبقے سے ملتی ہے، وہ طبقہ جن سے افغانستان میں امن اور ترقی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ مخصوص طبقہ نہ تو پاکستان کی حکومت کی بات سنتا ہے، نہ عوام کی، نہ علما کی، نہ پارلیمان کی اور نہ سیاستدانوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم پورے پاکستان کو ان حملوں کا مؤرد الزام نہیں ٹھہراتے ہیں۔‘

Share this content: