پاکستانی فوج میں پالیسی اختلافات کے باعث بے چینی، متعدد افسران کے استعفوں کی اطلاعات

طالبان سے وابستہ میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج اور فضائیہ کے مختلف یونٹس سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افسران نے اپنے استعفے مرکزی کمانڈ کو ارسال کیے ہیں۔

خراسان میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ استعفیٰ دینے والوں میں متعدد رینکس کے افسران شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اطلاعات کے مطابق فوجی قیادت نے ان استعفوں کو تاحال قبول نہیں کیا اور مبینہ طور پر افسران کو مختلف یقین دہانیوں کے ذریعے فیصلہ مؤخر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت موجودہ صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے نئی کارروائیوں یا آپریشنز کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، تاکہ افسران کو دوبارہ محاذ پر تعینات کیا جا سکے اور استعفوں کے معاملے کو پس منظر میں رکھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق استعفوں کی مبینہ بڑی تعداد کی بنیادی وجہ موجودہ فوجی قیادت کی پالیسیوں سے اختلاف بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ادارے کے اندر بے چینی اور تقسیم کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے نہ تو فوج کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔

Share this content: