بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مستونگ، جھل مگسی اور ہرنائی میں پیش آنے والے تین الگ الگ واقعات میں دو افراد قتل، پانچ اہلکار بازیاب جبکہ ایک پولیس افسر سمیت چار افراد اب تک لاپتہ ہیں۔
مستونگ کے سرحدی علاقے لک پاس کے قریب غنچہ ڈھوری میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے وزیراعلیٰ ہاؤس بلوچستان کے ملازم انعام اللہ شاہ مشوانی اور ان کے بھائی فرید اللہ شاہ مشوانی پر اندھا دھند فائرنگ کر کے دونوں کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں بھائی پنجپائی سے کوئٹہ جا رہے تھے کہ گھات لگائے حملہ آوروں نے گاڑی کو نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ لاشوں کو ہسپتال منتقل کر کے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
ادھر جھل مگسی کے علاقے گنداواہ میں جمعرات کو پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران اغوا کیے گئے پانچ پولیس اہلکاروں کو رات گئے رہا کر دیا گیا۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت یا رہائی کے طریقہ کار سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔
اسی روز ہرنائی میں مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پولیس ایس ایچ او اور تین دیگر افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس پر علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ مغویوں کے اہلخانہ اور قبائلی عمائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
تینوں واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
Share this content:


