کتاب نام: روداد ستم
مصنف : حامد میر
تبصرہ: فرحان طارق
حامد میر کی کتاب رودادِ ستم 2023 سے 2025 تک پاکستان میں رونما ہونے والے جمہوری و غیر جمہوری واقعات، جنگوں، سیاست، اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور بلوچستان سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر تک پھیلے حالات کے گرد لکھے گئے کالموں کا مجموعہ ہے۔
اس سے قبل حامد میر 2018 سے 2023 تک کے حالات پر مشتمل کتاب سچ بولنا منع ہے بھی تحریر کر چکے ہیں۔
349 صفحات پر مشتمل رودادِ ستم میں مصنف نے مختلف واقعات بیان کیے ہیں۔ ہر واقعے کی تفصیل قارئین کے لیے اضطراب کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ اس تبصرے کو مختصر رکھتے ہوئے اہم نکات پیش کیے جائیں۔
کتاب کے ابتدائی مضامین میں پاکستان میں 8 فروری 2024 کو منعقدہ عام انتخابات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ حامد میر کے بقول، جب 8 فروری کو جیو نیوز پر نتائج نشر ہو رہے تھے تو الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج اس کے برعکس تھے۔ مصنف کے مطابق اس الیکشن میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ وہ موجودہ نظام کو آمریت کے مترادف قرار دیتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان کو 1973 کے آئین کے تحت چلایا جا رہا ہے یا ایم پی او کے تحت؟ ان کے مطابق آج جمہوری حکومت کا ہتھیار ایم پی او بن چکا ہے، جسے وہ ایک کالا قانون قرار دیتے ہیں جس پر بانیٔ پاکستان نے دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔
کتاب میں ادریس خٹک کا ذکر بھی ملتا ہے، جو لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد کے دوران خود لاپتہ ہوئے اور بعد ازاں فوجی عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا، جو عمران خان کے دورِ حکومت میں ہوا۔
ریاست کے چوتھے ستون یعنی میڈیا کے حوالے سے مصنف لکھتے ہیں کہ جب ریاست کی جانب سے سنسرشپ بڑھتی ہے تو ماضی کا ہیرو حال میں ولن بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کے دور میں ٹی وی اسکرینوں پر نواز شریف کی تصاویر دکھانا ممنوع تھا، جبکہ شہباز شریف کی حکومت میں عمران خان کی تصویر دکھانا جرم بن گیا۔ مصنف کے مطابق اس سارے کھیل میں میڈیا اشاروں پر چلنے پر مجبور ہو چکا ہے اور تنقیدی آوازیں ہر دور میں نشانہ بنتی رہی ہیں۔
حامد میر نے مئی 2024 میں پاکستانی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی گمشدگی کو بھی موضوع بنایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب احمد فرہاد کا کیس عدالت میں چل رہا تھا تو اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر غیر ملکی علاقہ ہے، اس لیے احمد فرہاد کو عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مصنف اس بیان پر سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر آزاد کشمیر غیر ملکی علاقہ ہے تو پھر وہاں پاکستانی فوج کی موجودگی کی کیا توجیہ ہے؟
بلوچستان کی شورش کو بھی کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق غیر مقامی افراد کو بسوں سے اتار کر قتل کرنا دہشت گردی ہے، جو بنیادی حقوق کی لڑائی لڑنے والے بلوچ مزاحمت کاروں کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ شہری نہیں بلکہ آئین لاپتہ ہے۔ کتاب میں لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ کا ذکر بھی ہے، جو کم عمری میں اپنے والد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد آئی اور مختلف حکمرانوں سے ملاقاتیں کرتی رہی، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
مصنف نے ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے طویل مارچ اور اسلام آباد میں خواتین و بچوں پر تشدد کے واقعات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ قوم پرست بلوچ سیاست دان اختر مینگل کے استعفے کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ وہ پارلیمانی نظام سے مایوس ہو چکے ہیں اور ماضی کے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
اسی تناظر میں عطا اللہ مینگل کی نو ماہ کی حکومت اور 21 جون 1972 کو بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کا ذکر بھی شامل ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے بارے میں مصنف کا مؤقف ہے کہ جب تک بلوچستان میں شورش رہے گی، مفاد پرست ٹولے پلتے رہیں گے۔
کتاب میں “بدتمیز لڑکی” کے عنوان سے ایمان مزاری کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ عمران خان کے دور میں بھی وہ حکومت پر تنقید کرتی تھیں اور اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گزرتی تھیں۔
کتاب کے آخری حصے میں مصنف نے سید علی گیلانی اور مقبول بٹ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری تحریک، مسئلہ فلسطین اور مئی میں پاک بھارت کشیدگی کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


