پاکستانی  کشمیر میں سماجی درجہ بندی، برادری نظام اور سماجی تبدیلیاں، تحقیقی رپورٹ

یہ ایک اکیڈمک ریسرچ دستاویزہے جو آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے سماجی ڈھانچے، برادری نظام، سماجی درجہ بندی، اور 1970 کے بعد آنے والی سماجی تبدیلیوں کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ مصنف نے فیلڈ ورک (2008–2010)،انٹرویوز، مشاہدات، اور مقامی بیانیے سرکاری مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تحقیق مرتب کی ہے۔

اس دستاویز کے مصنف میگوئل لوریرو Miguel Loureiro ہیں جنہوں نے یہ تحقیق اس لیے کی کہ آزاد جموں کشمیر کے لوگ اپنی سماج کو پاکستان سے زیادہ برابر اور غیر درجہ بند سمجھتے ہیں۔لیکن عملی طور پر برادری نظام، اندوگامی، اور سماجی سرحدیں اب بھی مضبوط ہیں۔اس تضاد کو سمجھنے کے لیے انہوں نےآزاد جموں کشمیر کے دیہی علاقوں میں رہ کر تحقیق کی۔

یہ دستاویز سماجی علوم، جنوبی ایشیا اسٹڈیز، اور شناختی سیاست کے محققین کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔

  1. پس منظر اور مسئلے کا تعارف

آزاد جموں کشمیرکے لوگ عام طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی سماج پاکستان سے زیادہ برابر ہے۔ذات پات یا طبقاتی فرق کمزور ہو چکا ہے۔1970 کے بعد معاشرہ زیادہ کھلا اور متحرک ہوا ہے۔لیکن مصنف کے مطابق یہ دعویٰ جزوی طور پر درست ہے۔کیونکہ برادری نظام (biradari-ism) آج بھی طاقت، سیاست، شادی، اور وسائل تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اندوگامی (اپنی برادری میں شادی) نے سماجی سرحدوں کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔

  1. جنوبی ایشیا کے مسلم معاشروں میں ذات پات کا پس منظر:

مصنف بتاتا ہے کہ اگرچہ اسلام مساوات کی تعلیم دیتا ہے،لیکن جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرے ہندو ذات پات کے نظام سے متاثر رہے ہیں۔

اہم خصوصیات جو مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہیں:

اندوگامی (اپنی ذات/برادری میں شادی)
پیشہ ورانہ تقسیم (نائی، موچی، قصاب وغیرہ)
خون کی پاکیزگی کا تصور (سید، قریشی، کیانی وغیرہ)
درجہ بندی (اعلیٰ و ادنیٰ ذاتیں)

مصنف کے مطابق یہ سب سماجی حقیقتیں ہیں، مذہبی نہیں۔

  1. پاکستان اورآزاد جموں کشمیر میں برادری، قوم، ذات — بنیادی ڈھانچہ:

آزاد جموں کشمیر اور پنجاب میں تین اصطلاحات عام ہیں۔
قوم — بڑا نسلی گروہ
ذات — پیشہ یا نسل پر مبنی درجہ بندی
برادری — عملی سماجی اکائی، شادی، سیاست، تعاون کا مرکز

آزاد جموں کشمیر میں برادری کی اہم خصوصیات:

برادری سیاسی طاقت کا ذریعہ
برادری سماجی تحفظ کا نظام
برادری شادیوں کا کنٹرول رکھتی ہے
برادری کے اندر تحفوں کا لین دین (نیندرا) تعلقات کو مضبوط رکھتا ہے

  1. برادری نظام کی بنیادی خصوصیات:

آزاد جموں کشمیر میں بڑی برادریاں:
گجر،راجپوت،سدھان،جات،مغل،سید،کیانی،نرمہ،راجہ

اعلیٰ حیثیت والی برادریاں:
سید،کیانی،راجہ،مغل،

کمزور حیثیت والی برادریاں:
نائی،موچی،قصاب،میراثی

مصنف کے مطابق یہ تقسیم تاریخی، پیشہ ورانہ اور نسلی بنیادوں پر قائم ہے۔

  1. 1970 کے بعدآزادجموں کشمیر میں سماجی تبدیلی کے چار بڑے عوامل:

(1) خلیجی ممالک اور برطانیہ کی طرف ہجرت
ہزاروں نوجوان بیرون ملک گئے
پیسہ آیا، گھر بدلے، طرزِ زندگی بدلا
کمزور برادریوں کے لوگ بھی معاشی طور پر مضبوط ہوئے
پرانی سماجی سرحدیں کمزور ہوئیں

(2) زمین کی ملکیت میں تبدیلی
پہلے طاقت کا واحد ذریعہ زمین تھی
اب بیرون ملک کمائی نے طاقت کا توازن بدل دیا
غیر زمیندار بھی بااثر ہو گئے

(3) تعلیم کا پھیلاؤ
تعلیم نے نئی ملازمتیں اور مواقع پیدا کیے۔پرانی اشرافیہ کی اجارہ داری کم ہوئی۔

(4) جمہوری سیاست
ووٹ کی طاقت نے عددی اکثریت کو سیاسی اثر و رسوخ دیا۔
برادری سیاست (biradari-ism) مضبوط ہوئی

  1. وہ عنصر جو تبدیلی کو روک رہا ہے— اندوگامی:

مصنف کے مطابق آزاد جموں کشمیر میں برادری نظام کی اصل بنیاد آج بھی اپنی برادری میں شادی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سماجی سرحدیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔برادری کی شناخت اب بھی مضبوط ہے۔سیاسی اتحاد اب بھی برادری کی بنیاد پر بنتے ہیں۔

  1. نتیجہ — AJK کی سماج کی اصل تصویر:

مصنف کا حتمی مؤقف:

آزاد جموں کشمیر میں برادری نظام آج بھی سماجی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔لیکن 1970 کے بعد اس میں لچک، تبدیلی اور نئی شکلیں پیدا ہوئی ہیں۔ جہاں پیسہ، تعلیم اور سیاست نے لچک پیدا کی لیکن برادری، اندوگامی اور سماجی روایتیں اب بھی طاقتور ہیں۔کچھ اب بھی حاشیے پر ہیں۔یعنی آزاد جموں کشمیر نہ مکمل طور پر برابر ہے، نہ مکمل طور پر ذات پات سے آزاد — بلکہ ایک "لچکدار درجہ بندی” والا معاشرہ ہے۔

٭٭٭

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دستاویز کا تعارف :

عنوان: The Boundary Within: Equality, Hierarchy and Exclusion in Azad Jammu and Kashmir

مصنف: Miguel Loureiro

ادارہ: Institute of Development Studies (IDS), University of Sussex, UK

شائع شدہ: Routledge / Taylor & Francis Group

سالِ اشاعت: 2015

جرنل: Contemporary South Asia (Vol. 23, Issue 3)

Share this content: