گلگت بلتستان جیسے پُرامن خطے میں ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وائس چیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس مومنٹ گلگت بلتستان گوہر ایوب قریشی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جٹیال کے علاقے میں پولیس اہلکار کی جانب سے لڑکی کو ہراساں کرنے اور مبینہ اغوا کی کوشش کا واقعہ نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ رپورٹ کرنے پر صحافی کو متعلقہ اداروں کی جانب سے دھمکیاں دینا آزادیٔ صحافت کے منافی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر ایوب قریشی نے کہا کہ پولیس فورس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی ہے، تاہم اس نوعیت کے واقعات نہ صرف محکمہ پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار اور روایات کے سراسر منافی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کرکے ملوث اہلکار کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز کبھی ایف سی اور کبھی پولیس اہلکاروں کا ایسے واقعات میں ملوث پایا جانا ریاستی اداروں کے اندر احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
گوہر ایوب قریشی نے نگران حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے سنگین واقعات کا ازخود نوٹس لیا جائے، بصورتِ دیگر ہماری مائیں بہنیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے نے علاقے میں خوف کی فضا قائم کر دی ہے، جس کا خاتمہ ریاستی اداروں کی بروقت، شفاف اور مؤثر کارروائی کے بغیر ممکن نہیں۔
Share this content:


