جموں کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی نو جون کی کال اور تدبر کی سیاست۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر ایک بار پھر سیاسی ارتعاش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کے احتجاج کی کال محض ایک احتجاجی اعلان نہیں بلکہ ایک منظم، مرحلہ وار اور فکری حکمتِ عملی کا اظہار ہے۔ اعلان ہو چکا ہے، مگر احتجاج کی حتمی نوعیت عید کے بعد واضح کی جائے گی۔ بعض حلقے اسے ابہام قرار دے رہے ہیں، مگر سیاسی جدوجہد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر پتا میز پر رکھ دینا دانشمندی نہیں، بعض اوقات خاموشی سب سے مؤثر حکمت ہوتی ہے۔

یہ تحریک اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہونے کی خواہش نہیں رکھتی۔ اس کا بیانیہ صاف اور دوٹوک ہے: عوامی وسائل پر عوام کا حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت، اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، اور دیرینہ مسائل کا مستقل حل۔ یہ نہ حکومت بنانے کی تحریک ہے، نہ گرانے کی۔ یہ کرسی کی سیاست نہیں، یہ حق کی سیاست ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ کچھ حلقے چاہتے ہیں کہ فوری طور پر نظام بدل جائے، آٹھ ماہ میں حکومت تبدیل ہو جائے گی وغیرہ ۔ مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی وجود میں آئی تو ایک حکومت جا چکی تھی، نئی قائم ہو چکی تھی۔ تحریک کے دوران ایک اور وزیرِاعظم آ چکا ہے۔ چہرے بدلتے رہے ہیں، مگر مسائل جوں کے توں کھڑے ہیں۔ یہی حقیقت اس تحریک کے بیانیے کو مضبوط بناتی ہے کہ اس کی لڑائی کسی ایک جماعت یا فرد سے نہیں، بلکہ ایک غیر متوازن نظام سے ہے۔

یہ تاثر دینا کہ تحریک کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف یا حق میں ہے، حقائق کے برعکس ہے۔ حکومت سفید ہو یا سیاہ، جو بھی آئے یا جائے، عوامی حقوق کا مطالبہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔ یہ تحریک وسائل پر عوام کے حقِ ملکیت کی تحریک ہے، انصاف کی تحریک ہے، عام آدمی کی بقا کی تحریک ہے۔

حقیت یہی ہے کہ موجودہ آئینی بندوبست، یعنی ایکٹ 1974 جسے آئین کہا جاتا ہۓ، اختیارات کی تقسیم اور قانون سازی کی حدود متعین کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حقیقی اور پائیدار اصلاح اسی ڈھانچے کے اندر ممکن ہے یا اس پر نظرِثانی ناگزیر ہو چکی ہے؟ ایک رائے کہتی ہے کہ آئینی اصلاح کے بغیر تبدیلی سراب ہے۔ دوسری رائے کے مطابق شفاف مالیاتی نظم، ادارہ جاتی احتساب اور انتظامی اصلاحات بھی نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔ جبکہ ایک تیسرا حلقہ مکمل ساختیاتی تبدیلی کو ہی حل سمجھتا ہے۔مگر ان تمام آراء کا مشترکہ تقاضا ایک ہی ہے اور وہ ہے سنجیدہ، دستاویزی اور مرحلہ وار حکمتِ عملی۔

تاریخ شاہد ہے کہ عجلت میں اٹھائے گئے قدم تحریکوں کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ پائیدار انقلابات صبر، نظم اور اجتماعی مشاورت سے جنم لیتے ہیں۔ اگر یہ جدوجہد نسلوں کی بقا کی جدوجہد ہے تو اس کی رفتار بھی سنجیدہ ہونی چاہیے اور اس کا اسلوب بھی بالغ نظر۔ 9 جون کی کال اسی تدبر کی علامت ہے۔ احتجاج کی نوعیت کو آخری مرحلے میں واضح کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت داخلی نظم، قانونی پہلوؤں اور زمینی تیاری کو ملحوظِ خاطر رکھے ہوئے ہے۔

تحریکیں نعروں سے نہیں، نظریے سے کامیاب ہوتی ہیں۔ اگر احتجاج منظم، پُرامن اور واضح اہداف کے ساتھ سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف موجودہ سیاسی منظرنامے کو جھنجھوڑ دے گا بلکہ آئندہ کی سمت بھی متعین کرے گا۔

عوام بیدار ہیں۔ شعور کی سطح بلند ہو چکی ہے۔ اب اصل امتحان قیادت کا ہے کہ وہ اس بیداری کو وقتی جذباتی ابال میں تبدیل ہونے سے بچائے اور اسے ایک مستحکم، دیرپا اور نتیجہ خیز جدوجہد میں ڈھال دے۔
اگر تحمل، تدبر اور اجتماعی مشاورت کو بنیاد بنایا گیا تو یہ تحریک وقتی ردِعمل نہیں رہے گی بلکہ یہ خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔اور اگر قیادت نے حکمت کو برقرار رکھا، تو 9 جون صرف ایک تاریخ نہیں ہوگی، بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز بن سکتی ہے۔

٭٭٭

Share this content: