گلگت/ کاشگل نیوز
قراقرم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے اپنے ایک بیان میں شبیر مایار کو 18 مہینوں سے شیڈول فور تھ میں رکھنے کے عمل کو غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے معروف حریت رہنما و گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چیف آرگنائزر شبیر مایار کو گلگت بلتستان میں بنیادی انسانی حقوق قومی شناخت کے لیے جہدوجہد کرنے کی پاداش میں بد نام زمانہ شیڈول فورتھ کے آڑ میں ریاست پاکستان نے پچھلے اٹھارہ مہینوں سے گاؤں میں نظر بند کر رکھا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انھیں اور ان کی خاندان کو علاج معالجے کے لیے بھی روک رکھا ہے شبیر مایار ہارٹ کے مریض ہیں جنھیں ڈاکٹروں نے پاکستان ریفر کر دیا ہے جو علاج کے سلسلے میں پاکستان جانا چاہتے ہیں ریاستی مشینری انھیں علاج معالجے سے بھی روک رہی ہے ۔
تنظیم کے مطابق قراقرم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ریاست پاکستان کی جانب سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے مطالبہ کرتی ہے گلگت بلتستان میں شیڈول فورتھ جیسے کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے تمام سیاسی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول سے خارج کیا جائے ۔
Share this content:


