علی وزیر کو سائبر کرائم کیس میں کلین چٹ، رہائی کا امکان روشن

پاکستان کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سابق رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزام میں درج کیس میں کلین چٹ دے دی ہے۔

یہ پیشرفت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب علی اور جسٹس ریاض علی سحر پر مشتمل دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو سماعت کے دوران سامنے آئی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی انکوائری رپورٹ میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے) کے تحت علی وزیر کے خلاف کسی جرم کے شواہد نہیں ملے۔

رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد علی وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے مؤقف اختیار کیا کہ جب سائبر کرائم ایجنسی نے انہیں کلیئر کر دیا ہے تو ان کا موکل تاحال سکھر جیل میں کیوں قید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وزیر کے خلاف آخری زیر التوا مقدمہ تھا اور دیگر تمام کیسز میں وہ یا تو ضمانت حاصل کر چکے ہیں یا بری ہو چکے ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انکوائری رپورٹ حتمی حکم کے لیے این سی سی آئی اے کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ارسال کر دی گئی ہے۔ تاہم وکیلِ صفائی نے الزام عائد کیا کہ ایجنسی جان بوجھ کر کارروائی میں تاخیر کر رہی ہے تاکہ وزیر کی نظربندی طول پکڑے، اور عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا کی۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی اور سکھر جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور این سی سی آئی اے کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

وائس پی کے سے گفتگو میں امداد حیدر سولنگی نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سماعت پر عدالت علی وزیر کی رہائی کا حکم دے گی کیونکہ انہیں زیر حراست رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد باقی نہیں رہی۔

علی وزیر کی قانونی مشکلات کا آغاز 4 اگست 2024 کو ہوا جب اسلام آباد پولیس نے انہیں ایک سڑک حادثے کے الزام میں گرفتار کیا، بعد ازاں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2024 میں انہیں ضمانت دے دی تھی، تاہم رہائی عمل میں نہ آ سکی۔

بعد ازاں راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کے سیکشن 3 کے تحت ان کی نظر بندی کا حکم جاری کیا۔ علی وزیر کے قریبی ساتھی بادشاہ وزیر کے مطابق مختلف اضلاع میں بار بار ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے، جن میں سے کئی کو عدالتوں نے کالعدم قرار دیا، تاہم اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔

مزید برآں، بلوچستان اور سندھ میں بھی ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے بیشتر میں وہ بری ہو چکے ہیں یا عدالتوں نے الزامات کو دہشت گردی کے زمرے میں نہ آنے قرار دیا۔ نواب شاہ میں درج ایک مقدمے کو بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مزید تحقیقات کے لیے این سی سی آئی اے کے سپرد کیا تھا، جس میں اب انہیں کلیئر کر دیا گیا ہے۔

بادشاہ وزیر کا کہنا ہے کہ علی وزیر کو ان کے سیاسی مؤقف اور عوامی حقوق کی آواز اٹھانے کی پاداش میں مسلسل حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور اگست 2024 سے باقاعدہ طبی معائنہ نہیں کرایا جا سکا۔

آئندہ سماعت میں عدالت کی جانب سے ممکنہ فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں علی وزیر کی رہائی سے متعلق اہم پیشرفت متوقع ہے۔

Share this content: