گلگت: جوٹیال واقعے کے 7 شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، تدفین مطالبات کی منظوری سے مشروط

گلگت /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے علاقے جوٹیال گلگت میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے میں شہید ہونے والے سات (7) افراد کی نمازِ جنازہ سید راحت حسین الحسینی کی اقتدا میں مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں علما کرام، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مرکزی انجمنِ امامیہ اور شہداء کے لواحقین کے مشترکہ فیصلے کے مطابق، مرکز کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کی منظوری تک شہداء کی تدفین مؤخر رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

دریں اثناء، آج بمورخہ 02 مارچ 2026 کو رہبرِ مسلمینِ جہان آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے تناظر میں مرکزی انجمنِ امامیہ گلگت بلتستان اور ہیئتِ آئمہ جمعہ و جماعت گلگت کے مشترکہ اجلاس کے بعد 40 روزہ سوگ، 7 روزہ مجالسِ عزا، جوڈیشل انکوائری کمیشن کے قیام، زخمیوں کے علاج و شہداء کے لواحقین کے لیے مالی امداد و ملازمت، حالیہ واقعات میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سمیت دیگر مطالبات پیش کیے گئے۔

مطالبات:

آج بمورخہ 02 مارچ 2026، رہبرِ مسلمینِ جہان آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے عظیم سانحہ کے حوالے سے مرکزی انجمنِ امامیہ گلگت بلتستان اور ہیئتِ آئمہ جمعہ و جماعت گلگت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد درج ذیل نکات پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا:

1۔ عالمی و ملکی سطح پر مجتہدین، قائدین اور مراجع کی جانب سے جو بھی احکامات جاری کیے جائیں گے، انہیں قبول کرتے ہوئے ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔
2۔ چالیس (40) دن تک سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے، جبکہ سات (7) دن تک مسلسل مرکزی جامع مسجد گلگت اور تمام محلوں کی امام بارگاہوں میں مجالسِ عزا برپا کی جائیں گی۔

3۔ گلگت بلتستان کے حالیہ واقعات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم کیا جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔

4۔ حالیہ واقعات میں پورے پاکستان میں جتنے بھی افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کے سرکاری سطح پر مکمل علاج معالجے کا بندوبست کیا جائے، اور شہداء کے لواحقین و زخمیوں کو حکومت کی جانب سے مناسب مالی امداد اور ملازمت فراہم کی جائے۔

5۔ گلگت بلتستان میں آئندہ کسی بھی امریکی اور اسرائیلی شہری یا این جی او کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے، اور موجود امریکی و اسرائیلی این جی اوز اور افراد کو فوری طور پر بے دخل کیا جائے۔

6۔ جن افراد اور ذمہ داران کی سرپرستی میں مظلوم، نہتے روزہ داروں پر سیدھی فائرنگ کر کے انہیں شہید و زخمی کیا گیا، ان کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی جائے۔

7۔ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز حالیہ واقعات کو جواز بنا کر گلگت بلتستان میں کرفیو یا دفعہ 144 کے نفاذ سے گریز کریں، کیونکہ اس سے حالات مزید کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

8۔ ملک بھر میں ملتِ جعفریہ کی 36 شہادتوں اور تقریباً 200 سے زائد زخمیوں کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے تحت مومنین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اسے ملتِ جعفریہ پاکستان کو جان بوجھ کر شرپسند ثابت کرنے کی سازش قرار دیا جاتا ہے، اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پورے پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان میں حالیہ واقعات کے تحت درج تمام ایف آئی آرز واپس لی جائیں۔

9۔ کسی بھی شخص کی گرفتاری حالات کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہے، لہٰذا غیر ضروری گرفتاریوں سے اجتناب کیا جائے۔

10۔ مرکزی انجمنِ امامیہ اور تمام شہداء کے لواحقین، مذکورہ بالا مطالبات کی منظوری تک کسی بھی شہید کی تدفین مؤخر رکھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

Share this content: