کردوں کا ایران میں کارروائیاں شروع ، بلوچ سرحدوں پر تناؤ بڑھ گیا

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے خطے میں ایک نیا اور خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایک جانب عراقی کرد ملیشیاؤں نے ایران کے اندر زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران اور پاکستان کے زیرِ انتظام بلوچ علاقوں میں کشیدگی اور انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام کے مطابق سینکڑوں کرد جنگجو ایران کی سرحد عبور کر کے شمال مغربی علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ تعداد ہزاروں تک بتائی گئی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حکمتِ عملی کے تحت کرد ملیشیاؤں کو اسلحہ اور معاونت فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کا مقصد ایران کے خلاف ایک نیا زمینی محاذ کھولنا بتایا جا رہا ہے۔

مزید برآں، رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کرد گروہوں کو مسلح کر کے ایران میں بغاوت بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایران نے ان کارروائیوں کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے عراق کے کرد علاقوں میں موجود ان گروہوں کے ٹھکانوں پر میزائل حملے بھی کیے ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نیا محاذ جنگ کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران امریکا اسرائیل جنگ نے بلوچ خطوں میں پہلے سے موجود نسلی اور سیاسی تنازعات کو بھی بھڑکا دیا ہے۔

ایران کے زیرِ انتظام بلوچستان میں بلوچ مزاحمتی گروہ دو دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

موجودہ جنگی ماحول میں ان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ کرد ملیشیاؤں کی طرح کسی منظم بڑے پیمانے کی شمولیت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

تاہم سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور حملوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

ایران ان واقعات کا الزام بیرونی حمایت یافتہ گروہوں پر عائد کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام بلوچستان میں آزادی کی تحریک اور ریاستی کارروائیوں کے باعث صورتحال پہلے ہی سنگین ہے۔

جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، نقل مکانی اور معاشی بدحالی نے اسے ایک مستقل انسانی بحران کی شکل دے دی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں میں بلوچ علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال خطے میں ایک نئے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔

Share this content: