گلگت/ کاشگل نیوز
عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس مرکزی چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا ۔جس میں ضلع بھر کی کابینہ کے عہدیداران، علاقائی نمائندگان اور ممبران نے شرکت کی۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال اور حالیہ پیش آنے والے واقعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران کی شہادت پر گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
شرکاء نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں گلگت بلتستان میں مذکورہ واقعہ کے ردعمل میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے احتجاج کے دوران اٹھارہ سے زائد نوجوانوں کی شہادت اور بیس سے زائد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی شدید مذمت کی۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے فوری طور پر ایک آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے اور مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز، خصوصاً انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت قائم مقدمات کو واپس لیا جائے۔
اجلاس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک وفد نے مرکزی امامیہ مسجد گلگت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آغا راحت حسین الحسینی سمیت دیگر علمائے کرام اور عمائدین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور سانحے کی مذمت کی گئی۔
بعد ازاں وفد نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت کا دورہ کر کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اجلاس کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی اور گلگت بلتستان میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
Share this content:


