امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور اگر آبنائے ہرمز سے رکاوٹ ختم نہ ہوئی تو موت، آگ اور قہر برسے گا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے، بڑی حد تک۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’شیڈول سے بہت آگے ہے‘ اور ایران کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہاں ’کوئی بحریہ نہیں، کوئی مواصلاتی نظام نہیں، کوئی فضائیہ نہیں۔‘
اور ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے میزائل ’صرف ادھر ادھر بکھرے ہوئے رہ گئے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’میرے خیال سے تو جنگ ختم ہونے کو ہے۔‘
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا تھا کہ یہ جنگ جو اب اپنے دسویں دن میں داخل ہو چکی ہے ایک ماہ سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے۔
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں رپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے بھی خطاب کیا، جہاں انھوں نے ایران میں جاری امریکی کارروائی کو اپنی سیاست کی ’ایک چھوٹی سی مہم‘ قرار دیتے ہوئے متعدد دعوے کیے۔
خطاب کے چند منٹ بعد ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے بات کی۔
انھوں نے آغاز میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’بڑی پیش رفت‘ کی ہے اور مشن ’تقریباً مکمل‘ ہوگیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے ایران میں ہر ایک فوجی قوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘
صدر کے مطابق اب تک 5,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں ڈرون بنانے والی تنصیبات، ایران کی بحریہ کی طاقت اور میزائل صلاحیت کے مراکز شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ان کی میزائل صلاحیت اب تقریباً 10 فیصد رہ گئی ہے شاید اس سے بھی کم۔‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا جس سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جائے، تو اسے انتہائی شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر ایران کے ساتھ پہلے سے جاری کارروائی میں 20 گنا زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ہم ایسے اہداف کو بھی تباہ کر دیں گے جنھیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ہمارے ایسا کرنے سے ایران کے لیے دوبارہ ایک قوم کے طور پر کھڑا ہونا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔‘
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آبنائے ہرمز سے رکاوٹ ختم نہ ہوئی تو ان پر موت، آگ اور قہر برسے گا، لیکن مجھے اُمید ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔‘
Share this content:


