عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستان کا ورک فرام ہوم اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیل کی قلت کے پیش نظر پاکستان کی وفاقی حکومت اور دو صوبوں نے تعلیمی ادارے بند کرنے سمیت اخراجات کم کرنے کے مقصد سے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

پیر کو ایران میں جنگ کی صورتحال اور اس کے تناظر میں تیل اور گیس کی عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ سرکاری و نجی اداروں میں ہفتے میں چار روز کام ہو گا جبکہ 50 فیصد سٹاف گھر سے آن لائن کام یعنی ورک فرام ہوم کرے گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایران پر ہونے والے ’اسرائیلی بہیمانہ حملوں، آیت اللہ علی خامنہ ای، اُن کے اہلخانہ اور ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی پورا پاکستان بھرپور مذمت کرتا ہے جبکہ بردار اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، ترکی وغیرہ پر ہونے والے حملوں کی بھی پاکستان مذمت کرتا ہے۔‘

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت جو چند دن پہلے 60 ڈالر فی بیرل تھی اب بڑھ کر 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔

Share this content: