پاکستان کے قومی اسمبلی کے سابق رکن علی وزیر کی سکھر جیل سے ضمانت پر رہائی ایک بار پھر تکنیکی وجوہات کی بنا پر مؤخر کر دی گئی ہے۔
ان کے وکیل امداد سولنگی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حیدرآباد میں سرکٹ بینچ نے 10 مارچ کو علی وزیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کی رہائی تاحال عمل میں نہیں آ سکی۔
امداد سولنگی کا کہنا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود کچھ "غیر نظر آنے والی تکنیکی وجوہات” رہائی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت نے رہائی کا حکم دے دیا ہے تو پھر علی وزیر کو جیل میں رکھنے کا ذمہ دار کون ہے۔؟
وکیل کے مطابق عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے اور امید ہے کہ تمام تکنیکی مراحل مکمل ہونے کے بعد علی وزیر کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔
Share this content:


