گلگت بلتستان: عوامی ایکشن کمیٹی کے 13 رہنماؤں پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات، احسان ایڈووکیٹ سمیت 5 گرفتار

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے 13 رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ کمیٹی کے چیئرمین اور معروف قانون دان احسان علی ایڈووکیٹ سمیت 5 رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ کو 10 مارچ کی شام مقامی پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ نفیس ایڈووکیٹ، نصرت حسین، انجینئر محبوب ولی اور مہر علی کو بھی گزشتہ روز گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق دیگر نامزد افراد جن میں تعارف عباس ایڈووکیٹ، فدا ایثار، مسعودالرحمان، وحید حسن، اصغر شاہ، صاحب خان، انجینئر ندیم اور منظر مایا شامل ہیں، تاحال گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔

منگل کے روز تھانہ جوٹیال کے ایس ایچ او غلام سرور کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اسکردو گلگت میں ایک افطار پارٹی کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے خلاف متنازع تقاریر کیں۔

ایف آئی آر کے مطابق ان تقاریر میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور عوام کو اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے لیے اکسانے کی کوشش کی گئی۔

پولیس نے رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 506 اور 153-A کے تحت بھی مقدمات درج کیے ہیں۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف گلگت بلتستان کے عوامی و سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مختلف سماجی و سیاسی شخصیات نے پرامن سیاسی کارکنوں اور عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف اس کارروائی کو انتقامی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

Share this content: