گلگت / کاشگل نیوز
گلگت بلتستان میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 153-A اور 505 کے تحت متعدد سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رمضان المبارک کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی جی بی کی جانب سے ایک پرامن افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں عوامی مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کی گئی۔ تاہم حکام نے اس اجتماع کو بنیاد بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے 6 سے زائد مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ہونے والے رہنماؤں میں مرکزی چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ، مرکزی جنرل سیکرٹری تعارف عباس ایڈووکیٹ، مرکزی وائس چیئرمین انجینئر محبوب علی، وائس چیئرمین فدا احسان، صدر لائر ونگ محمد نفیس ایڈووکیٹ، انجینئر ندیم بھلوار اور مسعود الرحمن شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مزید سات سے آٹھ رہنما، جن میں وحید حسن، اصغر شاہ، مہر علی اور نصرت حسین شامل ہیں، اس وقت روپوش ہیں۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق پرامن سیاسی سرگرمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
ان کے مطابق حکومت کی جانب سے پرامن سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں شہری آزادیوں کے منافی ہیں۔
قراقرم نیشنل مومنٹ اور دیگر سماجی حلقوں نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بے بنیاد مقدمات واپس لیے جائیں اور پرامن سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مداخلت بند کی جائے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور پرامن جدوجہد ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے۔
Share this content:


