انسانی حقوق کی عالمی تنظیمایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانچ بلوچ کارکن تقریباً ایک سال سے مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں ہیں اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
پیر 16 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے بیان میں تنظیم نے کہا کہ بلوچ کارکن ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ زہری، بیبو بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ اور گلزادی بلوچ کو محض پرامن سرگرمیوں کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق یہ تمام کارکن اس وقت کوئٹہ کی ہدہ جیل میں قید ہیں جہاں انہیں جیل کے اندر خفیہ مقدمے کا سامنا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست کارکنوں کو مناسب طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔
بیان میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ حراست کے دوران ماہ ر نگ بلوچ کی صحت نمایاں طور پر خراب ہو گئی ہے اور انہیں فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بلوچستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بلوچ کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر عائد تمام الزامات واپس لیے جائیں۔
Share this content:


